خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 386
خلافة على منهاج النبوة وو ۳۸۶ جلد دوم " حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نعش مبارک جب قادیان پہنچی تو باغ میں خواجہ کمال الدین صاحب نے مجھ سے ذکر کیا کہ یہ تجویز ہوئی ہے کہ حضرت مسیح موعود کے جانشین حضرت مولوی نورالدین صاحب ہوں۔میں نے کہا بالکل صحیح ہے اور حضرت مولوی صاحب ہی ہر طرح سے اس بات کے اہل ہیں۔اس کے بعد انہوں نے کہا کہ یہ بھی تجویز ہوئی ہے کہ سب احمدی ان کے ہاتھ پر بیعت کریں۔میں نے کہا اس کی کیا ضرورت ہے جولوگ نئے سلسلہ میں داخل ہو نگے انہیں بیعت کی ضرورت ہے اور یہی الوصیۃ کا منشا ہے۔خواجہ صاحب نے کہا کہ چونکہ وقت بڑا نازک ہے ایسا نہ ہو کہ جماعت میں تفرقہ پیدا ہو جائے اور احمدیوں کے حضرت مولوی صاحب کے ہاتھ پر بیعت کر لینے سے کوئی حرج بھی نہیں۔تب میں نے بھی اسے تسلیم کر لیا‘۱۳ غرض خواجہ صاحب کے سمجھانے سے مولوی محمد علی صاحب حضرت خلیفہ اول کی بیعت پر راضی ہو گئے اور اس طرح خلافت اولیٰ کا قیام بغیر مخالفت کے ہو گیا۔گواس کے بعد اس فتنہ نے کئی اور صورتوں میں سر اُٹھایا مگر خلافت اولی قائم ہوگئی اور ساری جماعت حضرت خلیفہ اول کے ہاتھ پر جمع ہو گئی۔اب شیطان نے دیکھا کہ جو نئے جھگڑے کی بنیاد میں نے ڈالی تھی وہ بھی ختم ہو رہی ہے تو اس نے ایک نئی طرح ڈالی یعنی مولوی محمد علی صاحب کی پارٹی اور حضرت خلیفہ اول کے خاندان کے دلوں میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان سے بغض پیدا کر دیا تا کہ یہ سلسلہ ابھی اور لمبا چلتا چلا جائے اور دین کو دنیا پر مقدم کرنے والا گر وہ پھر دُنیا کو دین پر مقدم کرنے والے گروہ کے ظلموں کا شکار ہو جائے۔یہ بنیاد اس طرح پڑی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ دیکھ کر کہ حضرت مولوی نورالدین صاحب کے ہاں پہلی بیوی کے بطن سے کوئی نرینہ اولا د نہیں لدھیانہ کے ایک بزرگ صوفی احمد جان صاحب کی ایک لڑکی سے جو ان کی موجودہ زندہ اولاد کی والدہ تھیں نکاح کروایا۔اس واقعہ کی وجہ سے چاہیے تو یہ تھا کہ یہ دوسری بیوی حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور ان کے خاندان سے زیادہ تعلق رکھتیں جس طرح ان کے بھائی پیر افتخار احمد صاح