خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 384
خلافة على منهاج النبوة ۳۸۴ جلد دوم دائرۃ المعارف یعنی عربی انسائیکلو پیڈیا میں لکھا ہے کہ بنو امیہ اور بنو قریش پہلے ایک ہی قبیلہ کے افراد تھے اور سب اپنے آپ کو عبد مناف کی طرف منسوب کرتے تھے لیکن بنو امیہ کا خاندان بڑا تھا اور ان کے پاس مال زیادہ تھا اس لئے باوجود اس کے کہ بنو ہاشم کے پاس سرداری تھی وہ ان سے ہر بات میں بڑھنے کی کوشش کرتا اور مقابلہ کرتا رہتا تھا۔اسی طرح اُن کی اولاد میں بھی رقابت چلتی گئی۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف لڑائیوں میں بھی اس لئے کہ آپ ہاشم کی اولاد تھے عام طور پر ابوسفیان جو عبد الشمس کی اولاد میں سے تھا سردار ہو کر آیا کرتا تھا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تو بنوامیہ شکست کھا گئے لیکن آپ کی وفات کے بعد اس فتنہ نے سر اُٹھانا شروع کیا اور شیطان نے اپنا ہتھیار اور لوگوں کو چن لیا چنانچہ جب حضرت علی خلیفہ ہوئے تو معاویہ بن ابوسفیان نے جو بنو امیہ میں سے تھے آپ کے مقابلہ کے لئے لشکر جمع کیا۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غرض محمدرسول اللہ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں بھی اور حضرت علیؓ کے زمانہ میں بھی کے زمانہ میں شیطان کا حربہ بہ شیطان نے وہی حربہ نظام حقہ کے خلاف استعمال کیا جو اول دن سے وہ نظامِ حقہ کے خلاف استعمال کرتا رہا ہے یعنی حسد اور بغض اور لالچ کا۔درمیان میں رسول کریم صل اللہ علیہ وسلم کے قرب کی وجہ سے یہ حربہ زیادہ کامیاب نہ ہوا مگر حضرت علیؓ کے زمانہ میں یہ حربہ پھر زور پکڑ گیا اور آج تک شیعہ سنی کی شکل میں یہ جھگڑا چل رہا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں پھر شیطان نے ایک اور رنگ میں زمانہ میں شیطانی حربہ کی صورت اس کی بنیاد رکھی۔آپ کی خلافت میں پہلا جھگڑا جو زیادہ شدت سے ظاہر نہیں ہوا حضرت خلیفہ اول کے خلیفہ بننے کے وقت ہوا۔یہ جھگڑا بھی درحقیقت وہی ابلیس والے جھگڑے کی طرز پر تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک انجمن مقبرہ بہشتی کی بنائی تھی اور اس میں حضرت خلیفہ اوّل کو صدر بنایا تھا اور مولوی