خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 383 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 383

خلافة على منهاج النبوة ۳۸۳ جلد دوم علیہ وسلم کے بعد بھی فتنہ پیدا کرتا چلا جائے۔چنانچہ اس کی تفصیل یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پڑ دادا عبد مناف کے ایک بیٹے عبد الشمس تھے عبد مناف کے ایک اور چھوٹے بیٹے ہاشم تھے اور عبد الشمس کا بیٹا امیہ تھا۔عبد مناف کے مرنے کے بعد قرعہ ڈالا گیا اور با وجو د چھوٹا ہونے کے ہاشم کو وارث قرار دیا گیا اور مسافروں کو چاہ زمزم سے پانی پلانا اور حاجیوں کی خدمت کرنا جو سب سے بڑا عہدہ سمجھا جاتا تھا وہ اسے دیا گیا۔اسی طرح غیر حکومتوں کے پاس وفد بھیجوانے کا جو کام تھا اور ان کی سرداری کرنے کا عہدہ بھی ان کے سپر د ہوا۔عبد الشمس کے بیٹے اُمیہ کو یہ بات بُری لگی۔شیطان نے اس کے دل میں ڈالا کہ یہ عہدہ ہاشم کے پاس کیوں جائے اور اس نے قوم میں مقبولیت حاصل کرنے کیلئے ہاشم کے کاموں کی نقل شروع کر دی۔یعنی مسافروں کو زم زم سے پانی بھی پلاتا تھا اور بہت کچھ داد و دہش بھی کرتا تھا تا کہ عوام میں مقبول ہو جائے۔قریش نے جب یہ بات دیکھی تو انہوں نے سمجھا کہ یہ خاندان آپس کے مقابلہ میں تباہ ہو جائیگا اور یہ دیکھتے ہوئے کہ اُمیہ ضدی ہے انہوں نے ہاشم سے اصرار کیا کہ کوئی ثالث مقرر کر کے فیصلہ کروا لو۔مگر اوّل تو ہاشم چونکہ اُمیہ سے عمر میں بڑے تھے اور ریاست کا حق ان کو مل چکا تھا انہوں نے انکار کر دیا کہ میں فیصلہ ثالثی نہیں کرا تا مگر آخر ساری قوم نے خاندان کو تباہی سے بچانے کیلئے امیہ اور ہاشم پر ثالثی کیلئے زور دیا۔آخر ہاشم بھی مان گئے اور اُمیہ بھی مان گئے اور اُمیہ نے خزاعہ قبیلہ کے ایک کا ہن کو ثالث تجویز کیا۔ہاشم نے بھی اسے مان لیا۔اس کا ہن کے پاس جب فیصلہ گیا تو اس نے ہاشم کے حق میں فیصلہ کیا اور فیصلہ کے مطابق اُمیہ کو مکہ سے دس سال کی جلا وطنی قبول کرنی پڑی اور وہ شام چلے گئے۔اس تاریخ سے بنو ہاشم اور بنو امیہ میں حاسدا نہ لڑائی شروع ہو گئی 2 محاضرات میں شیخ محمد خضری بھی اس رقابت کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ہاشم اور اس کے بھتیجے اُمیہ کے درمیان مفاخرت اور مقابلہ شروع ہو گیا کیونکہ ہاشم مال کی وجہ سے اور قومی ضروریات کو پورا کرنے کی وجہ سے قوم کا سردار تھا اور اُمیہ مال اور۔اولاد والا تھا چنانچہ وہ اپنے چچا سے مفاخرت اور مقابلہ کرتا تھا اور اس وجہ سے دونوں خاندانوں اور ان کی اولادوں میں رقابت رہی یہاں تک کہ اسلام ظاہر ہو گیا۔شاہ