خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 382
خلافة على منهاج النبوة ۳۸۲ جلد دوم کچھ دیا جائے جیسا کہ اے بنی اسرائیل تم کو دیا گیا ہے۔جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ تم سے تمہارے رب کے حضور میں بحث کریں گے۔پھر تو اُن سے کہہ دے کہ فضل کامل تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔اُس نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا فضل کا مل دے دیا اُس کو مل گیا۔جب تمہارے نبیوں کو دے رہا تھا تو اُن کو مل گیا۔وہ جس کو چاہتا ہے دیتا ہے اللہ تعالیٰ بہت وسعت والا اور بہت جاننے والا ہے۔اسی طرح سورۃ نساء رکوع ۸ آیت ۵۵ میں آتا ہے۔آمْ يَحْسُدُونَ النَّاسَ عَلَى مَا أَتَهُمُ اللهُ مِن فَضْلِهِ : فَقَدْ أَتَيْنَا آل ابرهيم الكتب والحِكْمَةَ وَ أتينهُمْ مُّلْكًا عَظِيمًات یعنی کیا یہ یہودی اس بات پر حسد کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھیوں کو اپنے فضل سے کچھ حصہ دے دیا ہے اگر ایسا ہو گیا ہے تو بگڑا کیا۔پھر بھی تو آل ابراہیم کو یعنی اسماعیل کی اولا دہی کو کتاب اور حکمت بخشی گئی اور ان کو بہت بڑا ملک عطا فر مایا گیا یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی آل ابراہیم میں سے ہیں اور موسوی سلسلہ بھی آلِ ابراہیم میں سے ہے پس موسوی سلسلہ کو جو کتاب ملی وہ بھی آلِ ابراہیم کو ملی اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو کتاب اور حکمت ملی وہ بھی آلِ ابراہیم کو ملی اور جو ملک موسیٰ کی قوم کو ملا وہ بھی آلِ ابراہیم کو ملا اور جو ملک محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ملے گا وہ بھی آل ابراہیم کو ملے گا۔ان دونوں آیتوں سے ظاہر ہے کہ شیطان نے جو نظام الہی کے خلاف رقابت کا مادہ بنو اسحاق کے دل میں پیدا کیا تھا وہ حضرت اسماعیل کی زندگی تک ختم نہیں ہوا بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ تک لمبا ہوتا گیا اور جس طرح پہلے اس نے حضرت اسماعیل کو ان کی وراثت سے محروم کرنا چاہا تھا اسی طرح دو ہزار سال بعد اس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی وراثت سے محروم کرنا چاہا لیکن ایک بات یاد رکھنی چاہیے اور وہ یہ ہے کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ قریب آیا اور شیطان نے دیکھا کہ اب پر انا حسد ختم ہو جائے گا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنو اسماعیل کے دشمنوں کو کچل ڈالیں گے اور ان پر غالب آجائیں گے تو اُس نے ایک نئے بغض کی بنیاد ڈالی جو محمد رسول اللہ صلی اللہ