خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 375
خلافة على منهاج النبوة ۳۷۵ جلد دوم اس مخالفت کی وجہ کیا تھی ؟ قرآن کریم اسے یوں بیان فرماتا ہے۔2 قال ما منعكَ الَّا تَسْجُدَ إِذا مَرتكَ ، قَالَ انَّا خَيْرٌ مِّنْهُ خَلَقْتَنِي مِنْ نَّارٍةٌ خَلَقْتَهُ مِن طِينٍ قَالَ فَاهْبِطَ مِنْهَا فَمَا يَكُونُ لَكَ ان تتكبر فيها فَاخْرُجُ إِنَّكَ مِنَ الصَّغرِينَ قَالَ انْظُرْنِي إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُونَ كَ قَالَ إنَّكَ مِنَ الْمُنظَرِينَ قَالَ فَبِمَا اغْوَيْتَنِي لَا قُعُدَنَّ لَهُمْ صِرَاطَكَ المُسْتَقِيمَ ثُمَّ لَاتِيَنَّهُمْ مَنْ بَيْنِ آيد يُهِمْ وَمِنْ خَلْفِهِمْ وَ عَنْ ايْمَانِهِمْ وَ عَنْ شَمَالِهِمْ وَلَا تَجِدُ اكثرَ هُمْ شَكِرِينَ قَالَ اخْرُجْ مِنْهَا مدرو ما مدحُورًا ، لَمَن تَبِعَكَ مِنْهُمْ لا مَلَعَنَ جَهَنَّمَ مِنْكُمْ أَجْمَعِينَ یعنی اے شیطان ! جب میں نے کہا تھا کہ اس آدم کی خاطر اس کی پیدائش کی خوشی میں میرے آگے سجدہ کرو تو تم نے کیوں سجدہ نہیں کیا ؟ یا میں نے کہا تھا کہ آدم کی فرمانبرداری کرو تو تم نے کیوں فرمانبرداری نہیں کی؟ تو اُس نے جواب دیا میں نے اس لئے ایسا نہیں کیا کہ میں اس سے اچھا ہوں ( قال انا خَيْرٌ مِّنْهُ ( یعنی میری نافرمانی کی وجہ رقابت تھی مجھے تو نے آگ سے پیدا کیا اور اسے گیلی مٹی سے پید کیا ہے ( خَلَقْتَنِي مِنْ نَّارٍ وَخَلَقْتَهُ مِنْ طین ) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شیطان کو آدم سے یہی بغض تھا کہ میں تو اس سے اعلیٰ ہوں پھر اس کو مجھ پر فضیلت کیوں دی گئی۔یہی بغض ابلیس کے ساتھیوں کو آدم کے ساتھیوں سے تھا یعنی دنیا کو دین پر مقدم کرنا ساری مخالفت کا باعث تھا۔وہ یہ نہیں دیکھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم کو بڑھایا ہے بلکہ وہ یہ دیکھتے تھے کہ ہم پر اس کو فضیلت دے دی گئی ہے۔چنانچہ اس کے آگے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے شیطان ! میرے نظام سے باہر نکل جا ( قال ناشبط مِنْهَا ) کیونکہ تیرا کوئی حق نہیں تھا کہ میری جماعت میں شامل ہوتے ہوئے تکبر کرتا اور میرے مقرر کردہ خلیفہ سے اپنے آپ کو بڑا سمجھتا (فَمَا يَكُونُ لَكَ ان تتكبر فيها ) پس نکل جا کیونکہ ذلّت تیرے نصیب میں ہے (فَاخْرُجُ اِنَّكَ مِنَ الصّغرِينَ) اُس نے کہا ! الہی ! جب تک یہ قوم ترقی کرے اور دنیا پر غالب آجائے مجھے ڈھیل دے اور موقع دے کہ میں ان کو خراب کروں ( قال انظرني إلى يَوْمِ يُبْعَثُونَ ) اللہ تعالیٰ نے فرمایا