خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 374 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 374

خلافة على منهاج النبوة ۳۷۴ جلد دوم کر دیا جائے مگر مناسب یہی ہے کہ احباب جو جمع ہوئے ہیں اُن تک مضمون میری زبان سے پہنچ جائے اس لئے جہاں بھی ایسا موقع آیا کہ مجھے معلوم ہوا کہ مضمون لمبا ہو رہا ہے تو میں صرف نوٹ پڑھ کے سنا دوں گا تا کہ اس جلسہ میں یہ تقریر ختم ہو جائے۔سورۃ اعلیٰ کے آخر میں اللہ تعالیٰ نظام آسمانی کی مخالفت اور اس کا پس منظر فرماتا ہے۔قد افلح من ترعى وذكر اسْمَ رَبِّهِ فَصَلَّى بَلْ تُؤْثِرُونَ الْحَيوة الدُّنْيَا وَالآخِرَةُ خير و ابقى ان هذا لفِى الصُّحُفِ الأولى صُحُفِ ابْراهِيمَ وَمُوسى لا یعنی جو شخص پاک ہوتا ہے وہ کامیاب ہو جاتا ہے اور جو شخص اللہ تعالیٰ کا نام لیتا ہے اور نمازیں پڑھتا ہے وہ بھی کامیاب ہو جاتا ہے لیکن اے قرآن کریم کے مخاطب ! تم لوگ دنیا کی زندگی کو آخرت کی زندگی پر ترجیح دیتے ہو یعنی دنیا کو دین پر مقدم کرتے ہو حالانکہ دین دُنیا پر مقدم ہے اور قائم رہنے والا ہے۔یہی بات پہلی کتابوں میں بھی لکھی ہوئی ہے۔ابراہیم کی کتاب میں بھی لکھی ہے اور موٹی کی کتاب میں بھی یہی بات لکھی ہے۔ان آیات سے جو میں نے پڑھی ہیں ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ حضرت موسیٰ علیہ السلام پر جو وحی نازل ہوئی تھی ان دونوں میں یہ کہا گیا تھا کہ اے لوگو ! آخرت یعنی دین کو دنیا پر مقدم کرو۔دنیا کو دین یعنی آخرت پر مقدم نہ کرو ورنہ تمہارا الہی نظام سے ٹکراؤ ہو جائیگا اور تم حق کو نہیں پا سکو گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام کو بھی یہی پرانی تعلیم سکھائی گئی اور آپ نے اپنی بیعت میں یہ الفاظ رکھے کہ : میں دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا“ در حقیقت یہی تعلیم ہے جس کے نہ ماننے کی وجہ سے نظام آسمانی کی مخالفت کی جاتی ہے یعنی رقابت یا لالچ یا بغض کی وجہ سے۔آدم کے زمانہ میں شیطان کی مخالفت چنانچہ آدم کو دیکھ لو شیطان نے اس کی کے لائے ہوئے نظام کی مخالفت کی۔