خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 366
خلافة على منهاج النبوة ۳۶۶۔جلد دوم سیرالیون کے مشن نے لکھا کہ یہاں ایک عیسائی سردار تھا جس کو یہاں چیف کے نام سے پکارا جاتا ہے۔در حقیقت ان کی حیثیت ہمارے ملک کے ذیلداروں کی سی ہوتی ہے مگر وہاں کی گورنمنٹ نے ان چیفس کو بہت زیادہ اختیارات دے رکھے ہیں۔ان کے پاس مقدمات جاتے ہیں اور گورنمنٹ نے ایک خاص حد تک ان کو سزا دینے کا بھی اختیار دیا ہوا ہے۔وہاں ملک کے رواج کے مطابق چیف کو خدا تعالیٰ کا قائم مقام سمجھا جاتا ہے اس لئے ان کے ہاں ہماری طرح خدا تعالیٰ کی قسم کھانے کا رواج نہیں بلکہ وہاں یہ رواج ہے کہ جب کسی سے قسم لینی ہو تو چیف کھڑا ہو جاتا ہے اور اپنا سٹول جس پر وہ بیٹھتا ہے سامنے رکھ دیتا ہے اور مدعی یا اس کا نمائندہ اُس پر ہاتھ رکھ کر قسم کھاتا ہے اور کہتا ہے کہ مجھے چیف کے اس سٹول کی قسم کہ میں نے فلاں کی بات کی ہے یا نہیں کی اور اسکی بات مان لی جاتی ہے۔ہمارے احمدیوں نے چیف کے سٹول پر ہاتھ رکھ کر اس کی قسم کھانے سے انکار کرنا شروع کر دیا اور کہا یہ شرک ہے ہم تو خدا تعالیٰ کی قسم کھائیں گے لیکن چیف نے کہا میں تو خدا تعالیٰ کی قسم نہیں مانتا ہمارے باپ دادا سے یہ رواج چلا آ رہا ہے کہ اِس سٹول کی قسم کھائی جاتی ہے اس لئے میں اس سٹول کی قسم لوں گا لیکن احمدیوں نے ایسی قسم کھانے سے انکار کر دیا۔چنانچہ وہاں ایک کے بعد دوسرے احمدی کو سزاملنی شروع ہوئی لیکن احمدی سٹول کی قسم کھانے سے برابر انکار کرتے گئے۔آخر گورنمنٹ ڈرگئی اور اُس نے کہا آخر تم کتنے احمدیوں کو جیل بند کرو گے احمد بیت تو اس علاقہ میں پھیل رہی ہے اور اس کے ماننے والوں کی تعدا د روز بروز زیادہ ہو رہی ہے۔چنانچہ تنگ آکر گورنمنٹ نے چیفس کو حکم دے دیا کہ اگر کسی مقدمہ میں کسی احمدی سے قسم لینے کی ضرورت پڑے تو اُسے چیف کے سٹول کی قسم نہ دی جائے بلکہ اسے خدا تعالیٰ کی قسم دی جائے کیونکہ یہ لوگ خدا تعالیٰ کے سوا کسی اور کی قسم نہیں کھا سکتے تو دیکھو وہاں احمدیت نے کا یا پلٹ دی ہے۔سیرالیون میں ہمارا ایک اخبار چھپتا ہے۔اس کے متعلق ہمارے مبلغ نے لکھا کہ چونکہ ہمارے پاس کوئی پر لیں نہیں تھا اس لئے عیسائیوں کے پریس سے وہ اخبار چھپنا شروع ہوا۔دو چار پر چوں تک تو وہ برداشت کرتے چلے گئے لیکن جب یہ سلسلہ آگے بڑھا تو