خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 367 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 367

خلافة على منهاج النبوة جلد دوم پادریوں کا ایک وفد اُس پریس کے مالک کے پاس گیا اور انہوں نے کہا تمہیں شرم نہیں آتی کہ تم اپنے پریس میں ایک احمدی اخبار شائع کر رہے ہو جس نے عیسائیوں کی جڑوں پر تبر رکھا ہوا ہے۔چنانچہ اسے غیرت آئی اور اُس نے کہہ دیا کہ آئندہ میں تمہارا اخبار اپنے پر لیں پر نہیں چھاپوں گا کیونکہ پادری بُرا مناتے ہیں۔چنانچہ اخبار چھپنا بند ہو گیا تو عیسائیوں کو اس سے بڑی خوشی ہوئی اور انہوں نے ہمیں جواب دینے کے علاوہ اپنے اخبار میں بھی ایک نوٹ لکھا کہ ہم نے تو احمدیوں کا اخبار چھاپنا بند کر دیا ہے اب ہم دیکھیں گے کہ اسلام کا خدا ان کے لئے کیا سامان پیدا کرتا ہے۔یعنی پہلے ان کا اخبار ہمارے پر لیس میں چھپ جایا کرتا تھا اب چونکہ ہم نے انکار کر دیا ہے اور ان کے پاس اپنا کوئی پریس نہیں اس لئے اب ہم دیکھیں گے کہ یہ جو مسیح کے مقابلہ میں اپنا خدا پیش کیا کرتے ہیں اس کی کیا طاقت ہے اگر اس میں کوئی قدرت ہے تو وہ ان کیلئے خود سامان پیدا کرے۔وہ مبلغ لکھتے ہیں کہ جب میں نے یہ پڑھا تو میرے دل کو سخت تکلیف محسوس ہوئی۔میں نے اپنی جماعت کو تحریک کی کہ وہ چندہ کر کے اتنی رقم جمع کر دیں کہ ہم اپنا پر لیں خرید سکیں۔اس سلسلہ میں میں نے لاری کا ٹکٹ لیا اور پونے تین سومیل پر ایک احمدی کے پاس گیا تا کہ اُسے تحریک کروں کہ وہ اِس کام میں حصہ لے۔میں اُس کی طرف جا رہا تھا کہ خدا تعالیٰ نے ایسا فضل کیا کہ ابھی اس کا گاؤں آٹھ میل پرے تھا کہ وہ مجھے ایک دوسری لاری میں بیٹھا ہوا نظر آگیا اور اس نے بھی مجھے دیکھ لیا۔وہ مجھے دیکھتے ہی لاری سے اُتر پڑا اور کہنے لگا آپ کس طرح تشریف لائے ہیں؟ میں نے کہا اِس اِس طرح ایک عیسائی اخبار نے لکھا ہے کہ ہم نے تو ان کا اخبار چھاپنا بند کر دیا ہے اگر مسیح کے مقابلہ میں ان کے خدا میں بھی کوئی طاقت ہے تو وہ کوئی معجزہ دکھا دے۔وہ کہنے لگا آپ یہیں بیٹھیں میں ابھی گاؤں سے ہو کر آتا ہوں۔چنانچہ وہ گیا اور تھوڑی دیر کے بعد ہی اُس نے پانچ سو پونڈ لا کر مجھے دے دیئے۔پانچ سو پونڈ وہ اس سے پہلے دے چکا تھا گویا تیرہ ہزار روپیہ کے قریب اس نے رقم دے دی اور کہا میری خواہش ہے کہ آپ پر لیس کا جلدی انتظام کریں تا کہ ہم عیسائیوں کو جواب دے سکیں کہ اگر تم نے ہمارا اخبار چھاپنے سے انکار کر دیا تھا تو اب ہمارے خدا نے بھی ہمیں اپنا پر لیس دے دیا ہے۔