خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 365 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 365

خلافة على منهاج النبوة ۳۶۵ جلد دوم اور اس طرح وہ پونے چار کروڑ روپیہ جمع کر لیتے ہیں۔لیکن آپ لوگ باوجود اس کے کہ اتنا بوجھ اُٹھاتے ہیں کہ کوئی اپنی ماہوار تنخواہ کا ۶ فیصدی چندہ دیتا ہے اور کوئی دس فیصد چندہ دیتا ہے اور پھر بارہ ماہ متواتر دیتا ہے آپ کا چندہ پندرہ میں لاکھ بنتا ہے۔اس کی وجہ یہی ہے کہ ہماری تعدا د عیسائیوں سے بہت تھوڑی ہے۔اگر ہمارے پاس پونے چار کروڑ روپیہ ہو جائے تو شائد ہم دو سال میں عیسائیت کی دھجیاں بکھیر دیں۔اس تھوڑے سے چندہ سے بھی ہم وہ کام کرتے ہیں کہ دنیا دنگ رہ گئی ہے۔چنانچہ عیسائیوں نے اپنی کتابوں میں لکھا ہے جن کے اقتباسات الفضل میں بھی چھپتے رہے ہیں کہ احمدیوں نے ہمارا ناطقہ بند کر دیا ہے جہاں بھی ہم جاتے ہیں احمدیت کی تعلیم کی وجہ سے لوگ ہماری طرف توجہ نہیں کرتے اور نہ صرف نئے لوگ عیسائیت میں داخل نہیں ہوتے بلکہ ہم سے نکل نکل کر لوگ مسلمان ہو رہے ہیں۔نائیجیریا اور گولڈ کوسٹ کے متعلق تو یہ رپورٹ آئی ہے کہ وہاں جو لوگ احمدی ہوئے ہیں۔ان میں سے زیادہ تر تعداد عیسائیوں سے آئی ہے سیرالیون اور لائبیریا سے بھی رپورٹ آئی ہے کہ عیسائی لوگ کثرت سے احمدیت کی طرف متوجہ ہور ہے ہیں اور سلسلہ میں داخل ہور ہے ہیں۔پاکستان اور ہندوستان میں لوگ زیادہ تر مسلمانوں سے آئے ہیں کیونکہ یہاں مسلمان زیادہ ہیں اور عیسائی کم ہیں لیکن وہاں چونکہ عیسائی زیادہ ہیں اس لئے زیادہ تر احمدی عیسائیوں سے ہی ہوئے ہیں۔چنانچہ مغربی افریقہ میں احمدیت کی ترقی کے متعلق گولڈ کوسٹ یونیورسٹی کالج کے پروفیسر جے سی ولیم سن نے اپنی ایک کتاب "مسیح" یا محمد میں لکھا ہے کہ 'اشانٹی گولڈ کوسٹ کے جنوبی حصوں میں عیسائیت آجکل ترقی کر رہی ہے لیکن جنوب کے بعض حصوں میں خصوصاً ساحل کے ساتھ ساتھ احمد یہ جماعت کو عظیم فتوحات حاصل ہو رہی ہیں یہ خوشکن تو قع کہ گولڈ کوسٹ جلد ہی عیسائی بن جائیگا اب معرض خطر میں ہے اور یہ خطرہ ہمارے خیال کی وسعتوں سے کہیں زیادہ عظیم ہے کیونکہ تعلیم یافتہ نو جوانوں کی خاصی تعدا د احمدیت کی طرف کھنچی چلی جا رہی ہے اور یقیناً ( یہ صورت ) عیسائیت کیلئے ایک کھلا چیلنج ہے۔پھر جو لوگ احمدیت میں داخل ہوئے ہیں ان کے اخلاص کی یہ حالت ہے کہ