خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 353
خلافة على منهاج النبوة ۳۵۳ جلد دوم کہ یہ جماعت اگر چہ چھوٹی ہے لیکن متحد ہونے کی وجہ سے اسے ایک طاقت حاصل ہے۔اس طاقت سے ہمیں خواہ مخواہ ٹکر نہیں لینی چاہیے۔چنانچہ وہ ہم سے ڈرتے ہیں۔پاکستان میں ہمارے متعلق کہا جاتا ہے کہ ان لوگوں کی کوئی طاقت نہیں انہیں اقلیت قرار دے دینا چاہیے۔حالانکہ یہاں ہماری تعداد لاکھوں کی ہے۔لیکن اسرائیل میں ہماری تعداد چند سو کی ہے پھر بھی وہ چاہتے ہیں کہ ہماری دلجوئی کی جائے اور یہ محض خلافت کی ہی برکت ہے۔وہ جانتے ہیں کہ چاہے ہمارے ملک میں چند سو احمدی ہیں مگر وہ ایک ہاتھ پر جمع ہیں اگر انہوں نے آواز اُٹھائی تو ان کی آواز صرف فلسطین میں ہی نہیں رہے گی بلکہ ان کی آواز شام میں بھی اُٹھے گی ، عراق میں بھی اُٹھے گی ، مصر میں بھی اُٹھے گی ، ہالینڈ میں بھی اُٹھے گی ، فرانس میں بھی اُٹھے گی ، سپین میں بھی اُٹھے گی ، انگلستان میں بھی اُٹھے گی ، سکنڈے نیویا میں بھی اُٹھے گی ، سوئٹزر لینڈ میں بھی اُٹھے گی ، امریکہ میں بھی اُٹھے گی ، انڈو نیشیا میں بھی اُٹھے گی۔یہ لوگ تمام ممالک میں پھیلے ہوئے ہیں اگر ان سے بُرا سلوک کیا گیا تو تمام ممالک میں اسرائیل بد نام ہو جائے گا اس لئے ان سے بگاڑ مفید نہیں ہو گا۔یہی وجہ ہے جس کی وجہ سے وہ ہمارے مبلغ کا اعزاز کرتے ہیں۔اسی طرح جب تقسیم ملک ہوئی تو ہمارے مبلغوں نے تمام ممالک میں ہندوستان کے خلاف پروپیگنڈا کیا۔اُس وقت لنڈن میں چوہدری مشتاق احمد صاحب باجوہ امام تھے انہیں پنڈت نہرو نے لکھا کہ آپ لوگوں نے تمام دنیا میں ہمیں اس قدر بد نام کر دیا ہے کہ ہم کسی ملک کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے۔اب دیکھ لو پنڈت نہرو باقی تمام مسلمانوں سے نہیں ڈرے۔انہیں ڈر محسوس ہوا تو صرف احمدیوں سے۔اور اس کی وجہ محض ایک مقصد پر جمع ہونا تھی اور یہ طاقت اور قوت جماعت کو کس طرح نصیب ہوئی ؟ یہ صرف خلافت ہی کی برکت تھی جس نے احمدیوں کو ایک نظام میں پرو دیا اور اس کے نتیجہ میں انہیں طاقت حاصل ہوگئی۔میرے سامنے اس وقت چوہدری غلام حسین صاحب بیٹھے ہیں جو مخلص احمدی ہیں اور صحابی ہیں اور یہ اپنی آواز کو امریکہ کس طرح پہنچا سکتے ہیں ؟ یہ اپنی آواز کو انگلینڈ کیسے پہنچا سکتے ہیں ؟ یہ اپنی آواز کو فرانس ، جرمنی اور پین کیسے پہنچا سکتے ہیں؟ یہ بے شک جو شیلے احمدی ہیں مگر یہ