خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 352
خلافة على منهاج النبوة ۳۵۲ جلد دوم نہیں سکے گی اسی طرح اگر تم نے خلافت کے نظام کو توڑ دیا تو تمہاری کوئی حیثیت باقی نہیں رہے گی اور تمہیں دشمن کھا جائے گا لیکن اگر تم نے خلافت کو قائم رکھا تو دنیا کی کوئی طاقت تمہیں تباہ نہیں کر سکے گی۔تم دیکھ لو ہماری جماعت کتنی غریب ہے لیکن خلافت کی وجہ سے اسے بڑی حیثیت حاصل ہے اور اس نے وہ کام کیا ہے جو دنیا کے دوسرے مسلمان نہیں کر سکے۔مصر کا ایک اخبار الفتح ہے جو سلسلہ کا شدید مخالف ہے اس میں ایک دفعہ کسی نے مضمون لکھا کہ گزشتہ ۱۳۰۰ سال میں مسلمانوں میں بڑے بڑے بادشاہ گزرے ہیں مگر انہوں نے اسلام کی وہ خدمت نہیں کی جو اس غریب جماعت نے کی ہے اور یہ چیز ہر جگہ نظر آتی ہے۔یورپ والے بھی اسے مانتے ہیں اور ہمارے مبلغوں کا بڑا اعزاز کرتے ہیں اور انہیں اپنی دعوتوں اور دوسری تقریبوں میں بلاتے ہیں۔اسرائیلیوں کو ہم سے شدید مخالفت ہے مگر پچھلے دنوں جب ہمارا مبلغ واپس آیا تو اسے وہاں کے صدر کی چٹھی ملی کہ جب آپ واپس جائیں تو مجھے مل کر جائیں۔اور جب وہ اسے ملنے کیلئے گئے تو ان کا بڑا اعزاز کیا گیا اور اس موقع پر ان کے فوٹو لئے گئے اور پھر ان فوٹو ؤں کو حکومت اسرائیل نے تمام مسلمان ممالک میں چھپوایا۔انہوں نے ان فوٹوؤں کو مصر میں بھی چھپوایا، عرب ممالک میں بھی چھپوایا ، افریقہ میں بھی چھپوایا اور ہندوستان میں بھی ان کی اشاعت کی۔جب چوہدری ظفر اللہ خان صاحب شام گئے تو وہاں کے صدر نے انہیں کہا کہ کیا آپ کی اسرائیل سے صلح ہوگئی ہے؟ انہوں نے اسے بتایا کہ ہماری اسرائیل سے کوئی صلح نہیں ہوئی بلکہ ہم اس کے شدید مخالف ہیں۔غرض وہ اسرائیل جو عرب ممالک سے صلح نہیں کرتا اُس نے دیکھا کہ احمدیوں کی طاقت ہے اس لئے ان سے صلح رکھنی ہمارے لئے مفید ہوگی۔وہ سمجھتا ہے کہ ان لوگوں سے خواہ مخواہ فکر نہیں لینی چاہیے گو اس کی یہ خواہش کبھی پوری نہیں ہوگی کیونکہ احمدی اسرائیل کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیٹھ میں خنجر سمجھتے ہیں کیونکہ اسرائیل مدینہ کے بہت قریب ہے۔وہ اگر ہمارے مبلغ کو اپنے ملک کا بادشاہ بھی بنا لیں تب بھی ہماری دلی خواہش یہی ہوگی کہ ہمارا بس چلے تو اسرائیل کو سمندر میں ڈبو دیں اور فلسطین کو ان سے پاک کر کے مسلمانوں کے حوالہ کر دیں۔بہر حال ان کی یہ خواہش تو کبھی پوری نہیں ہوگی لیکن وہ سمجھتے ہیں