خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 354 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 354

خلافة على منهاج النبوة ۳۵۴ جلد دوم اپنی آواز دوسرے ممالک میں اپنے دوسرے احمدی بھائیوں کے ساتھ مل کر پہنچا سکتے ہیں ور نہ نہیں۔اسی مل کر کام کرنے سے اسرائیل کو ڈر پیدا ہوا اور اسی مل کر کام کرنے سے ہی پاکستان کے مولوی ڈرے اور انہوں نے ملک کے ہر کونہ میں یہ جھوٹا پروپیگنڈا شروع کر دیا کہ احمدیوں نے ملک کے سب کلیدی عہدے سنبھال لئے ہیں۔انہیں اقلیت قرار دیا جائے اور ان عہدوں سے انہیں ہٹا دیا جائے۔حالانکہ کلیدی عہدے انہی کے پاس ہیں ہمارے پاس نہیں۔یہ سب طاقت خلافت کی وجہ سے ہے خلافت کی وجہ سے ہم اکٹھے رہے ہیں اور ایک دوسرے کی مدد کی ہے۔اب اس فتنہ کو دیکھو جو ۱۹۵۳ء کے بعد جماعت میں اُٹھا۔اس میں سارے احراری فتنہ پردازوں کے ساتھ ہیں۔تمہیں یاد ہے کہ ۱۹۳۴ء میں بھی احراری اپنا سارا زور لگا چکے ہیں اور بُری طرح ناکام ہوئے ہیں اور اس دفعہ بھی وہ ضرور نا کام ہوں گے۔اس دفعہ اگر انہوں نے یہ خیال کیا ہے کہ حضرت خلیفہ اسیح الاوّل کی اولا دان کے ساتھ ہے اس لئے وہ جیت جائیں گے تو انہیں جان لینا چاہئے کہ جماعت کے اندر اتنا ایمان ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مشن کے مقابلہ میں خواہ کوئی اُٹھے جماعت احمد یہ اس کا کبھی ساتھ نہیں دے گی۔کیونکہ انہوں نے دلائل اور معجزات کو دیکھ کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مانا ہے۔ان میں سے ہر شخص نے اپنے اپنے طور پر تحقیقات کی ہے۔کوئی گوجرانوالہ میں تھا ، کوئی گجرات میں تھا ، کوئی شیخوپورہ میں تھا وہاں جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتابیں پہنچیں اور آپ کے دلائل نقل کر کے بھجوائے گئے تو وہ لوگ ایمان لے آئے۔پھر ایک دھاگہ میں پروئے جانے کی وجہ سے انہیں طاقت حاصل ہو گئی۔اب دیکھ لو یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ہی طاقت تھی کہ آپ نے اعلان فرما دیا کہ حضرت مسیح علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں۔پس حضرت مسیح علیہ السلام کی موت سے ساری عیسائیت مرگئی۔اب یہ کتنا صاف مسئلہ تھا مگر کسی اور مولوی کو نظر نہ آیا۔سارے علماء کتا ہیں پڑھتے رہے لیکن ان میں سے کسی کو یہ مسئلہ نہ سُوجھا اور وہ حیران تھے کہ عیسائیت کا مقابلہ کیسے کریں۔حضرت مرزا صاحب نے آکر عیسائیت کے زور کو توڑ دیا اور وفات مسیح کا ایسا مسئلہ