خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 351 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 351

خلافة على منهاج النبوة ۳۵۱ جلد دوم ہوگی جیسے آجکل ادنی اقوام کی دوسرے لوگوں کے مقابلہ میں ہے۔وہ دن جس کا تمہیں وعدہ دیا گیا ہے یقیناً آئے گا لیکن جب آئے گا تو اس ذریعہ سے آئے گا کہ خلافت کو قائم رکھا جائے ، تبلیغ اسلام کو قائم رکھا جائے ، تحریک جدید کو مضبوط کیا جائے ، اشاعت اسلام کیلئے جماعت میں شغف زیادہ ہو اور دنیا کے کسی کو نہ کو بھی بغیر مبلغ کے نہ چھوڑا جائے۔مجھے بیرونی ممالک سے کثرت سے چٹھیاں آرہی ہیں کہ مبلغ بھیجے جائیں اس لئے ہمیں تبلیغ کے کام کو بہر حال وسیع کرنا پڑے گا اور اتنا وسیع کرنا پڑے گا کہ موجود ہ کام اس کے مقابلہ میں لاکھواں حصہ بھی نہ رہے۔میں نے بتایا کہ خلافت کی وجہ سے رومن کیتھولک اس قدر مضبوط ہو گئے ہیں کہ ایک دفعہ میں نے پڑھا کہ ان کے ۵۴ لاکھ مبلغ ہیں۔ان سے اپنا مقابلہ کرو اور خیال کرو کہ تم سو ڈیڑھ سو مبلغوں کے اخراجات پر ہی گھبرانے لگ جاتے ہو اگر تم ان سے تین چار گنے زیادہ طاقت ور بنا چاہتے ہو تو ضروری ہے کہ تمہارا دو کروڑ مبلغ ہو۔لیکن اب یہ حالت ہے کہ ہمارے سب مبلغ ملالئے جائیں تو ان کی تعداد دو سو کے قریب بنتی ہے۔اگر ہم چاہتے ہیں کہ عیسائیوں کو مسلمان کر لیں ، بدھوں کو مسلمان کرلیں ،شنٹو ازم والوں کو مسلمان کر لیں ، کنفیوشس ازم کے پیروؤں کو مسلمان کر لیں تو اس کیلئے دو کروڑ مبلغوں کی ضرورت ہے اور ان مبلغوں کو پیدا کرنا اور پھر ان سے کام لینا بغیر خلافت کے نہیں ہوسکتا۔ہمارے ملک میں ایک کہانی مشہور ہے کہ ایک بادشاہ جب مرنے لگا تو اس نے اپنے تمام بیٹوں کو بلایا اور انہیں کہا ایک جھاڑ ولا ؤ وہ ایک جھاڑ ولے آئے۔اس نے اس کا ایک ایک تنکا انہیں دیا اور کہا اسے توڑو اور انہوں نے اسے فورا تو ڑ دیا۔پھر اس نے سارا جھاڑو انہیں دیا کہ اب اسے توڑو۔انہوں نے باری باری پورا زور لگایا مگر وہ جھاڑو ان سے نہ ٹوٹا۔اس پر اس نے کہا میرے بیٹو! دیکھو میں نے تمہیں ایک ایک تنکا دیا تو تم نے اسے بڑی آسانی سے توڑ دیا۔لیکن جب سارا جھاڑو تمہیں دیا تو باوجود اس کے کہ تم نے پورا زور لگا یا وہ تم سے نہ ٹوٹا۔اسی طرح اگر تم میرے مرنے کے بعد بکھر گئے تو ہر شخص تمہیں تباہ کر سکے گا لیکن اگر تم متحد رہے تو تم ایک مضبوط سوٹے کی طرح بن جاؤ گے جسے دنیا کی کوئی طاقت توڑ