خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 342
خلافة على منهاج النبوة ۳۴۲ جلد دوم اب دیکھو ایک شخص مر رہا ہے اسے اپنی زندگی کے متعلق یقین نہیں وہ مرتے وقت اپنے بیوی بچوں کو سلام نہیں بھیجتا، انہیں کوئی نصیحت نہیں کرتا بلکہ وہ اگر کوئی پیغام بھیجتا ہے تو یہی کہ اے میری قوم کے لوگو! تم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت میں کوتا ہی نہ کرنا۔ہم جب تک زندہ رہے اس فرض کو نبھاتے رہے اب آپ کی حفاظت آپ لوگوں کے ذمہ ہے آپ کو اس کے رستہ میں اپنی جانوں کی قربانی بھی پیش کرنی پڑے تو اس سے دریغ نہ کریں۔میری تم سے یہی آخری خواہش ہے اور مرتے وقت میں تمہیں اس کی نصیحت کرتا ہوں۔یہ تھا وہ عشق و محبت جو صحابہ کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تھا۔وہ پھر جب آپ بدر کی جنگ کیلئے مدینہ سے صحابہ سمیت باہر نکلے تو آپ نے نہ چاہا کہ کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف جنگ پر مجبور کیا جائے چنانچہ آپ نے اپنے ساتھیوں کے سامنے یہ سوال پیش کیا کہ وہ اس بارہ میں آپ کو مشورہ دیں کہ فوج کا مقابلہ کیا جائے یا نہ کیا جائے۔ایک کے بعد دوسرا مہاجر کھڑا ہوا اور اس نے کہا يَا رَسُولَ اللهِ! اگر دشمن ہمارے گھروں پر چڑھ آیا ہے تو ہم اس سے ڈرتے نہیں ہم اس کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہیں۔آپ ہر ایک کا جواب سن کر یہی فرماتے چلے جاتے کہ مجھے اور مشورہ دو مجھے اور مشورہ دو۔مدینہ کے لوگ اُس وقت تک خاموش تھے اس لئے کہ حملہ آور فوج مہاجرین کی رشتہ دار تھی و ڈرتے تھے کہ ایسا نہ ہو کہ ان کی بات سے مہاجرین کا دل دُکھے۔جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بار بار فرمایا کہ مجھے مشورہ دو تو ایک انصاری سردار کھڑے ہوئے اور عرض کیا يَا رَسُولَ اللهِ! مشورہ تو آپ کو مل رہا ہے مگر پھر بھی جو آپ بار بار مشورہ طلب فرما رہے ہیں تو شاید آپ کی مراد ہم انصار سے ہے۔آپ نے فرمایا ہاں۔اس سردار نے جواب میں کہا - يَا رَسُولَ اللهِ ! شاید آپ اس لئے ہمارا مشورہ طلب فرمارہے ہیں کہ آپ کے مدینہ تشریف لانے سے پہلے ہمارے اور آپ کے درمیان ایک معاہدہ ہوا تھا اور وہ یہ تھا کہ اگر مدینہ میں آپ پر اور مہاجرین پر کسی نے حملہ کیا تو ہم آپ کی حفاظت کریں گے مدینہ سے باہر نکل کر دشمن کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔لیکن اس وقت آپ مدینہ سے باہر تشریف لے آئے ہیں۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ہاں یہ درست ہے۔اس نے کہا يَا رَسُولَ اللهِ! جس وقت وہ |