خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 341 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 341

خلافة على منهاج النبوة ۳۴۱ جلد دوم حضرت ابو ایوب انصاری نے دوڑ کر اپنا لحاف اُس پانی پر ڈال کر پانی کی رطوبت کو خشک کیا تا کہ چھت کے نیچے پانی نہ ٹپک پڑے۔صبح کے وقت وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سارے حالات عرض کئے جس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اوپر کی منزل پر رہنے پر راضی ہو گئے۔اب دیکھو یہ اُس عشق کی ایک ادنی سی مثال ہے جو صحابہ کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تھا۔پھر یہ واقعہ کتنا شاندار ہے کہ جب جنگ اُحد ختم ہوئی اور مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ نے فتح عطا فرمائی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض صحابہ کو اس بات پر مامور فرمایا کہ وہ میدانِ جنگ میں جائیں اور زخمیوں کی خبر لیں۔ایک صحابی میدان میں تلاش کرتے کرتے ایک زخمی انصاری کے پاس پہنچے۔دیکھا کہ اُن کی حالت نازک ہے اور وہ جان توڑ رہے ہیں۔اس نے زخمی انصاری سے ہمدردی کا اظہار کرنا شروع کیا۔انہوں نے اپنا کا نپتا ہوا ہاتھ مصافحہ کیلئے آگے بڑھایا اور اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر کہا میں انتظار کر رہا تھا کہ کوئی بھائی مجھے مل جائے۔انہوں نے اس صحابی سے پوچھا کہ آپ کی حالت خطر ناک معلوم ہوتی ہے اور بچنے کی امید نہیں کیا کوئی پیغام ہے جو آپ اپنے رشتہ داروں کو دینا چاہتے ہوں ؟ اس مرنے والے صحابی نے کہا ہاں ہاں میری طرف سے میرے رشتہ داروں کو سلام کہنا اور انہیں کہنا کہ میں تو مر رہا ہوں مگر میں اپنے پیچھے خدا تعالیٰ کی ایک مقدس امانت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چھوڑے جا رہا ہوں میں جب تک زندہ رہا اس نعمت کی اپنی جان کو خطرہ میں ڈال کر بھی حفاظت کرتا رہا لیکن اب اے میرے بھائیو اور رشتہ دارو! میں اب مر رہا ہوں اور خدا تعالیٰ کی یہ مقدس امانت تم میں چھوڑ رہا ہوں میں آپ سب کو اس کی حفاظت کی نصیحت کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ اگر آپ سب کو اس کی حفاظت کے سلسلہ میں اپنی جانیں بھی دینی پڑیں تو آپ اس سے دریغ نہیں کریں گے اور میری اس آخری وصیت کو یا درکھیں گے۔مجھے یقین ہے کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے آپ کے اندر ایمان موجود ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ سب کو محبت ہے اس لئے تم ضرور آپ کے وجود کی حفاظت کیلئے ہرممکن قربانی کرو گے اور اس کیلئے اپنی جانوں کی بھی پرواہ نہیں کرو گے۔۵