خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 343
خلافة على منهاج النبوة ۳۴۳ جلد دوم معاہدہ ہوا تھا اُس وقت تک ہم پر آپ کی حقیقت پورے طور پر روشن نہیں ہوئی تھی لیکن اب ہم پر آپ کا مرتبہ اور آپ کی شان پورے طور پر ظاہر ہو چکی ہے۔اس لئے يَا رَسُولَ اللهِ! اب اس معاہدہ کا کوئی سوال ہی نہیں۔ہم موسی" کے ساتھیوں کی طرح آپ کو یہ نہیں کہیں گے کہ فَاذْهَبْ اَنْتَ وَ رَبُّكَ فَقَاتِلا انا ههنا قَاعِدُونَ۔کہ تو اور تیرا رب جاؤ اور دشمن سے جنگ کرتے پھر وہم تو یہیں بیٹھے ہیں بلکہ ہم آپ کے دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی لڑیں گے اور آگے بھی لڑیں گے اور پیچھے بھی لڑیں گے۔اور يَا رَسُولَ اللهِ! دشمن جو آپ کو نقصان پہنچانے کیلئے آیا ہے وہ آپ تک نہیں پہنچ سکتا۔جب تک وہ ہماری لاشوں کو روندتا ہوا نہ گذرے۔کے پھر اس نے کہا يَا رَسُولَ اللهِ! جنگ تو ایک معمولی بات ہے یہاں سے تھوڑے فاصلہ پر سمندر ہے ( بدر سے چند منزلوں کے فاصلہ پر سمندر تھا اور عرب تیر نا نہیں جانتے تھے اس لئے پانی سے بہت ڈرتے تھے ) آپ ہمیں سمندر میں اپنے گھوڑے ڈال دینے کا حکم دیجئے ہم بلا چون و چرا اس میں اپنے گھوڑے ڈال دیں گے تو یہ وہ فدائیت اور اخلاص کا نمونہ تھا جس کی مثال کسی سابق نبی کے ماننے والوں میں نہیں ملتی۔اس مشورہ کے بعد آپ نے دشمن سے لڑائی کرنے کا حکم دیا اور اللہ تعالیٰ نے اس میں آپ کو نمایاں فتح عطا فرمائی۔حضرت مسیح ناصری کے انصار کی وہ شان نہیں تھی جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے انصار کی تھی لیکن پھر بھی وہ اس وقت تک آپ کی خلافت کو قائم رکھے ہوئے ہیں اور یہ ان کی ایک بہت بڑی خوبی ہے مگر تم میں سے بعض لوگ پیغامیوں کی مدد کے لالچ میں آگئے اور انہوں نے خلافت کو مٹانے کی کوششیں شروع کر دیں اور زیادہ تر افسوس یہ ہے کہ ان لوگوں میں اس عظیم الشان بارپ کی اولا د بھی شامل ہے جس کو ہم بڑی قدر اور عظمت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کی وفات پر ۴۲ سال کا عرصہ گزر چکا ہے مگر میں ہر قربانی کے موقع پر آپ کی طرف سے قربانی کرتا ہوں۔تحریک جدید ۱۹۳۴ء سے شروع ہے اور اب ۱۹۵۶ء ہے گویا اس پر ۲۲ سال کا عرصہ گزر گیا ہے۔شاید حضرت خلیفہ امسیح الاوّل کی اولا د خود بھی اس میں حصہ نہ لیتی ہو لیکن میں ہر سال آپ کی طرف سے اس میں چندہ دیتا ہوں تا کہ آپ کی روح کو بھی اس کا ثواب پہنچے۔