خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 293 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 293

خلافة على منهاج النبوة ۲۹۳ جلد دوم صاحب نے بتایا کہ ساڑھے آٹھ بجے ہوگی اور صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب پڑھائیں گے۔باہر صحن میں درخت کے ساتھ اعلان بھی لگا ہوا ہے۔لہذا میں نے واپس جا کر سب دوستوں کو جو مسجد میں تھے نماز کے وقت کی اطلاع دی۔اس ضمن میں اللہ رکھا مذ کو ر کو بھی بتایا کہ کل نما ز ساڑھے آٹھ بجے ہوگی اور صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب نماز پڑھائیں گے تو اس نے جواب دیا کہ ”میں ایسوں کے پیچھے نماز نہیں پڑھتا“ دوسرے روز مولوی محمد صدیق صاحب اسے زبر دستی خیبر لاج لائے اور اسے اپنے ہمراہ نماز کی ادائیگی کے لئے کہا۔اللہ رکھا کہتا تھا کہ میں پیغامیوں کی مسجد میں نماز پڑھوں گا۔نیز وہ جتنے روز یہاں رہا پیغامیوں کا لٹریچر تقسیم کرتا رہا۔اس نے یہ بھی بتایا کہ اس کی خط و کتابت مولوی صدر دین صاحب سے ہے اور ہر روز وہ کہا کرتا تھا کہ میں نے انہیں آج خط لکھا ہے۔اس نے یہ بھی بتایا تھا کہ وہ ابتدائی دنوں میں پیغامیوں کی مسجد میں رہتا رہا ہے اور میاں محمد صاحب لائکپوری جو کچھ عرصہ پیغامیوں کے امیر رہے ہیں اور گزشتہ دنوں مری میں تھے ان کے گھر جا کر کھانا کھاتا رہا ہے اور اس نے مجھے کہا کہ انہوں نے مجھے اجازت دے رکھی ہے کہ جب چاہو میرے گھر آ جایا کرو۔میں رات کے گیارہ بجے تک مکان کا دروازہ کھلا رکھا کروں گا۔جس روز محمد شریف صاحب اشرف سے اللہ رکھا کا جھگڑا ہوا تھا اُس دن رات کو جب وہ مسجد میں آیا تو اس نے کہا یہ میری پیشگوئی ہے کہ جس طرح پہلے خلافت کا جھگڑا ہوا تھا اب پھر ہونے والا ہے آپ ایک ڈیڑھ سال میں دیکھ لیں گے“۔دستخط ظهور القمر ۲۵ / جولائی ۱۹۵۶ء ) اس شہادت کو پڑھ کر دوستوں کو معلوم ہو جائے گا کہ یہ سب سازش پیغامیوں کی ہے اور اللہ رکھا انہی کا آدمی ہے وہ مولوی صدر دین غیر مبائع منکر نبوت مسیح موعود کے پیچھے نماز جائز سمجھتا ہے لیکن مرزا ناصر احمد جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا پوتا ہے اور ان کی نبوت کا قائل ہے اس کے پیچھے نماز جائز نہیں سمجھتا اور پیشگوئی کرتا ہے کہ ایک دوسال میں پھر خلافت کا جھگڑا شروع ہو جائے گا۔موت تو اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے مگر یہ فقرہ بتا تا ہے کہ یہ جماعت ایک دو سال میں