خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 294
خلافة على منهاج النبوة ۲۹۴ جلد دوم مجھے قتل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تبھی اسے یقین ہے کہ ایک دو سال میں تیسری خلافت کا سوال پیدا ہو جائے گا اور ہم لوگ خلافت کے مٹانے کو کھڑے ہو جائیں گے اور جماعت کو خلافت قائم کرنے سے روک دیں گے۔خلافت نہ خلیفہ اول کی تھی نہ پیغامیوں کی۔نہ وہ تو پہلی دفعہ خلافت کے مٹانے میں کامیاب ہو سکے نہ اب کامیاب ہوں گے۔اُس وقت بھی حضرت خلیفہ اول کے خاندان کے چند افراد پیغامیوں کے ساتھ مل کر خلافت کے مٹانے کے لئے کوشاں تھے۔مجھے خود ایک دفعہ میاں عبدالوہاب کی والدہ نے کہا تھا ہمیں قادیان میں رہنے سے کیا فائدہ۔میرے پاس لاہور سے وفد آیا تھا اور وہ کہتے تھے کہ اگر حضرت خلیفہ اول کے بیٹے عبدالحی کو خلیفہ بنا دیا جا تا تو ہم اس کی بیعت کر لیتے مگر یہ مرزا محمود احمد کہاں سے آ گیا ہم اس کی بیعت نہیں کر سکتے۔وہی جوش پھر پیدا ہوا عبدالحی تو فوت ہو چکا اب شاید کوئی اور لڑ کا ذہن میں ہوگا جس کو خلیفہ بنانے کی تجویز ہوگی۔خلیفہ خدا تعالیٰ بنایا کرتا ہے اگر ساری دنیا مل کر خلافت کو توڑنا چاہے اور کسی ایسے شخص کو خلیفہ بنانا چاہے جس پر خدا راضی نہیں تو وہ ہزار خلیفہ اول کی اولاد ہو اُس سے نوح کے بیٹوں کا سا سلوک ہوگا اور اللہ تعالیٰ اُس کو اور اُس کے سارے خاندان کو اس طرح پیس ڈالے گا جس طرح چکی میں دانے پیس ڈالے جاتے ہیں۔خدا تعالیٰ نے نوح جیسے نبی کی اولاد کی پرواہ نہیں کی۔نہ معلوم یہ لوگ خلیفہ اول کو کیا سمجھے بیٹھے ہیں۔آخر وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے غلام تھے اور ان کے طفیل خلیفہ اول بنے تھے ان کی عزت قیامت تک محض مسیح موعود علیہ السلام کی غلامی میں ہے بے شک وہ بہت بڑے آدمی تھے مگر مسیح موعود علیہ السلام کے غلام ہو کر نہ کہ ان کے مقابل میں کھڑے ہو کر۔قیامت تک اگر ان کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا غلام قرار دیا جائے گا تو ان کا نام روشن رہے گا لیکن اگر اس کے خلاف کسی نے کرنے کی جرات کی تو وہ دیکھے گا کہ خدا تعالیٰ کا غضب اس پر بھڑ کے گا اور اس کو ملیا میٹ کر دیا جائے گا۔یہ خدا کی بات ہے جو پوری ہو کر رہے گی۔یہ لوگ تو سال ڈیڑھ سال میں مجھے مارنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن آسمانوں کا خدا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو یہ فرماتا ہے۔سو تجھے بشارت ہو کہ ایک وجیہ اور پاک لڑکا تجھے دیا جائے گا جس کا نزول بہت