خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 234 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 234

خلافة على منهاج النبوة ۲۳۴ جلد دوم خلافت احمدیہ کا قیام اور اس کی برکات دعوی مصلح موعود کے سلسلہ میں دوسرا عظیم الشان جلسه مورخه ۱۲ / مارچ ۱۹۴۴ء کو لاہور میں منعقد ہوا۔اس جلسہ میں مختلف مذاہب کے لوگ کثرت سے شامل ہوئے۔اس موقع پر جو تقریر آپ نے فرمائی اس کا عنوان تھا ” میں ہی مصلح موعود کی پیشگوئی کا مصداق ہوں‘اس تقریر میں خلافت احمدیہ کے قیام اور اس کی برکات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا :۔جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام فوت ہوئے اور لوگ یہ سمجھنے لگے کہ اب مرزا صاحب تو فوت ہو گئے ہیں اس سلسلہ کا آب خاتمہ سمجھو۔تب اللہ تعالیٰ نے جماعت کے لوگوں کے دلوں میں ڈالا کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک خلیفہ مقرر کریں۔چنانچہ سب جماعت نے حضرت مولوی نورالدین صاحب کے ہاتھ پر بیعت کر لی اور وہ خلیفہ اول مقرر ہوئے۔جب لوگوں نے دیکھا کہ جماعت کا شیرازہ بکھرا نہیں بلکہ پہلے سے بھی زیادہ مضبوط ہو گیا ہے تو انہوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ یہ سب ترقی حضرت مولوی نورالدین صاحب کی وجہ سے اس سلسلہ کو حاصل ہو رہی تھی۔وہ پیچھے بیٹھ کر کتا بیں لکھتے اور مرزا صاحب اپنے نام سے شائع کر دیتے تھے۔بس اس کی زندگی تک اس سلسلہ نے ترقی کرنی ہے ، مولوی نورالدین صاحب کے مرتے ہی یہ سلسلہ ختم ہو جائے گا۔مگر خدا کی قدرت ہے کہ اپنے تمام زمانہ خلافت میں حضرت خلیفہ اول نے ایک کتاب بھی نہ لکھی اور اس طرح وہ اعتراض باطل ہو گیا جو مخالف کرتے رہتے تھے کہ کتابیں مولوی نورالدین صاحب لکھتے ہیں اور نام مرزا صاحب کا ہوتا ہے بلکہ سچی بات تو یہ ہے کہ حضرت خلیفہ اول کا طرز تحریر ہی بالکل اور رنگ کا تھا۔مگر بہر حال لوگوں نے یہ سمجھا کہ حضرت مولوی صاحب تک ہی اس سلسلہ کی زندگی ہے اس کے بعد یہ سلسلہ ختم ہو جائے گا مگر وہ خدائے واحد و قہار جس نے بانی سلسلہ احمدیہ کو خبر دی تھی کہ تیرا