خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 233
خلافة على منهاج النبوة ۲۳۳ جلد دوم بادشاہت نہیں بلکہ خلافت ہے خلافت کو بادشاہت کا رنگ ہر گز نہیں دینا چاہئے۔روکنے والے کو خود غور کرنا چاہئے تھا کہ اگر وہ خود باہر کا رہنے والا ہوتا ، سال کے بعد یہاں آتا اور پھر اسے خلیفہ کے ساتھ ملاقات سے روکا جاتا تو اُسے کتنا دکھ ہوتا اور اس دکھ کا احساس کرتے ہوئے اسے اس طرح روکنا نہ چاہئے تھا۔ملاقات کا موجودہ انتظام تو اس لئے ہے کہ جماعتیں اکٹھی ملیں تا واقفیت ہو سکے مگر بعض دفعہ ایک جماعت کے ساتھ دوسری جماعت کا کوئی دوست بھی آجاتا ہے اور اس میں کوئی حرج نہیں اگر اسے آنے بھی دیا جاتا تو کیا اس نے آتے ہی گولی چلا دینی تھی ؟ یہ انتظام تو صرف سہولت کیلئے ہے ورنہ لوگوں نے بہر حال ملنا ہے۔پس جہاں تک ملاقات سے روکنے کا تعلق ہے روکنے والے کی غلطی ہے باقی رہائؤنگا مارنے کا معاملہ سو مارنے والا سپاہی ہے اور فوجی افسر ہے۔مجھے خوشی ہے کہ ان کو مگا بازی آگئی مگر اتنا کہتا ہوں یہ شرعاً نا جائز ہے۔اگر ان پر ظلم ہوا تو چاہئے تھا کہ وہ اسے برداشت کرتے تا ہم جسے مارا گیا ہے میں اسے کہتا ہوں کہ وہ معاف کر دے کیونکہ اس نے اس جذبہ کے زیر اثر مارا ہے کہ اسے خلیفہ سے ملنے سے روکا گیا۔(انوار العلوم جلد ۶ اصفحه ۴۶۸، ۴۶۹)