خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 235 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 235

خلافة على منهاج النبوة ۲۳۵ جلد دوم ایک بیٹا ہوگا جو تیرا نام دنیا کے کناروں تک پہنچائے گا اور دین اسلام کی شوکت قائم کرنے کا موجب ہوگا اُس نے مخالفوں کی اِس امید کو بھی خاک میں ملا دیا۔آخر وہ وقت آ گیا جب حضرت خلیفہ اول کی وفات ہوئی۔اُس وقت جماعت میں اختلاف پیدا ہو گیا۔جماعت کے ایک برسراقتدار حصہ نے جس کے قبضہ میں صدرانجمن احمد ی تھی ، جس کے قبضہ میں خزانہ تھا اور جس کے زیراثر جماعت کے تمام بڑے بڑے لوگ تھے کہنا شروع کر دیا کہ خلافت کی ضرورت نہیں۔خواجہ کمال الدین صاحب جیسے سحر البیان لیکچرار ، مولوی محمد علی صاحب جیسے مشہور | مصنف، شیخ رحمت اللہ صاحب جیسے مشہور تاجر ، مولوی غلام حسین صاحب جیسے مشہور عالم جن کے سرحدی علاقہ میں اکثر شاگرد ہیں ، ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب اور ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب جیسے بارسوخ اور صاحب جائداد ڈاکٹر یہ سب ایک طرف ہو گئے اور ان لوگوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ ایک بچہ کو بعض لوگ خلیفہ بنا کر جماعت کو تباہ کرنا چاہتے ہیں۔وہ بچہ جس کی طرف ان کا اشارہ تھا میں تھا۔اُس وقت میری عمر بیس سال کی تھی اور اللہ بہتر جانتا ہے مجھے قطعاً علم نہیں تھا کہ میرے متعلق یہ سوال پیدا ہو رہا ہے کہ میں جماعت کا خلیفہ بنوں۔اللہ تعالی گواہ ہے نہ میں ان باتوں میں شامل تھا اور نہ مجھے کسی بات کا علم تھا۔سب سے پہلے میرے کانوں میں یہ آواز شیخ رحمت اللہ صاحب مالک انگلش ویئر ہاؤس کی طرف سے آئی۔میں نے سنا کہ وہ مسجد میں بڑے جوش سے کہہ رہے تھے کہ ایک بچہ کی خاطر سلسلہ کو تباہ کیا جا رہا ہے۔مجھے اُس وقت اُن کی یہ بات اتنی عجیب معلوم ہوئی کہ باہر نکل کر میں نے دوستوں سے پوچھا کہ وہ بچہ ہے کون جس کا آج شیخ رحمت اللہ صاحب ذکر کر رہے تھے۔وہ میری اس بات کو سُن کر ہنس پڑے اور کہنے لگے وہ بچہ تم ہی تو ہو۔غرض میں ان باتوں سے اتنا بے بہرہ تھا کہ مجھے یہ بھی معلوم نہ تھا کہ میں زیر بحث ہوں اور میرے متعلق یہ کہا جا رہا ہے کہ اس کی وجہ سے جماعت تباہ ہو رہی ہے۔مگر خدا تعالیٰ کی مشیت یہی تھی کہ وہ مجھے دنیا کی مخالفانہ کوششوں کے باوجود آگے کرے اور میرے سپر د جماعت کی نگرانی کا کام کرے۔میں نے امن قائم رکھنے اور جماعت کو تفرقہ سے بچانے کی بڑی کوشش کی مگر خدا تعالیٰ کے ارادہ کو کون روک سکتا ہے۔آخر وہی ہوا جو اُس کا منشا تھا۔جوں جوں