خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 203 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 203

خلافة على منهاج النبوة ۲۰۳ جلد دوم کر دینا تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ خلیفہ غلطی کر سکتا ہے اور پبلک کو حق ہے کہ جب بھی وہ اسے سیدھے راستہ سے منحرف ہوتا دیکھے اُسے پکڑ کر سیدھا کر دے۔اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت ابو بکر کا عمل اس بات پر شاہد ہے کہ آپ نے اپنے اس قول کے کبھی بھی وہ معنی نہیں سمجھے جو معترضین لیتے ہیں۔اور نہ مسلمان آپ کے اس قول کا کبھی یہ مفہوم لیتے تھے کہ جب وہ حضرت ابو بکر کی رائے کو اپنی رائے کے خلاف دیکھیں تو سختی سے آپ کو سیدھا کر دیں۔جیش اسامہ کو رکوانے کے متعلق جب بڑے بڑے صحابہ حضرت ابوبکر کے پاس آئے تو انہوں نے یہ تو نہیں کہا کہ ہماری یہ بات ماننی ہے تو مانو ورنہ ہم تمہیں ابھی سیدھا کر دیں گے بلکہ آپ نے جب ان تمام لوگوں کے مشورہ کو رڈ کر دیا اور فرمایا کہ میں جیشِ اسامہ کو نہیں روک سکتا تو انہوں نے اپنی رائے واپس لے لی۔اسی طرح جب باغیوں سے جنگ کے بارہ میں صحابہ نے کسی قدر نرمی کی درخواست کی تو آپ نے ان کی اس درخواست کو بھی رد کر دیا اور فرمایا کہ میں تو ان کے ساتھ وہی سلوک کروں گا جو مُرتدین کے ساتھ کیا جاتا ہے۔اس موقع پر بھی صحابہ نے یہ نہیں کہا کہ اگر آپ ہماری بات نہیں مانتے تو ہم آپ کو سیدھا کر کے چھوڑیں گے بلکہ انہوں نے اپنی غلطی کا اقرار کیا اور حضرت ابو بکڑ کے فیصلہ کے سامنے انہوں نے اپنی گردنیں جھکا دیں۔اسی طرح جہاں بھی آپ کا لوگوں سے مقابلہ ہوا آپ نے یہی کہا کہ میری بات صحیح ہے اور تمہاری غلط۔یہ کہیں نظر نہیں آتا کہ کبھی لوگوں نے آپ کو سیدھا کیا ہو۔یا آپ نے ہی لوگوں سے کہا ہو کہ اے مسلما نو ! میں کچھ ٹیڑھا سا ہو گیا ہوں مجھے سیدھا کر دینا۔پس آپ کے قول کے وہی معنی لئے جاسکتے ہیں جو خدا اور رسول کے احکام کے مطابق ہوں اور خود آپ کے فعل کے مطابق ہوں نہ کہ مخالف۔بھی سے مراد صرف کفر بواح ہے سو یا درکھنا چاہئے کہ آپ کی ٹیڑھا ہونے سے مراد وہی کفر بواح ہے جس کا ذکر احادیث آتا ہے اور آپ فرماتے ہیں کہ جب تک میں اسلام پر چلتا ہوں تم پر میری اطاعت فرض ہے اور اگر میں اسلام کو ترک کر دوں یا مجھ سے کفر بواح صادر ہو تو پھر تم پر یہ فرض ہے کہ میرا مقابلہ کرو ورنہ یہ مُراد نہیں کہ میرے روز مرہ کے فیصلوں پر تنقید کر کے جو تمہاری مرضی کے