خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 204 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 204

خلافة على منهاج النبوة ۲۰۴ مطابق ہوں اُن پر عمل کرو اور دوسروں کو چھوڑ دو۔جلد دوم کیا حضرت ابوبکر کفر بواح کر سکتے تھے؟ اگر کوئی کہے کہ کیا حضرت ابوبکر کفر بواح کر سکتے تھے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ کیا حضرت ابو بکر اس قدر ٹیڑھا ہو سکتے تھے کہ انہیں سیدھا کرنے کی مسلمانوں کو ضرورت پیش آئے ! ایسی صورت تو اُسی وقت پیش آ سکتی تھی جب صحابہ کہیں کہ قرآن اور حدیث سے فلاں امر ثابت ہے اور حضرت ابو بکر کہیں کہ میں قرآن اور حدیث کی بات نہیں مانتا۔پس کیا یہ ممکن تھا کہ حضرت ابو بکر کبھی قرآن اور حدیث کے خلاف ایسا قدم اُٹھا سکیں؟ اور مسلمانوں کو انہیں لٹھ لیکر سیدھا کرنے کی ضرورت پیش آئے۔اگر اس قدر کبھی بھی آپ سے ممکن نہ تھی مگر آپ نے یہ فقرہ کہا تو کفر بواح بھی گو آپ سے ممکن نہ تھا مگر آپ نے یہ ظاہر کرنے کیلئے کہ صداقت از لی سب چیزوں سے بڑی ہے یہ فقرہ کہہ دیا اس سے آپ کا یہ منشا نہیں تھا کہ نَعُوذُ بِاللہ آپ سے کفر بواح صادر ہوسکتا ہے بلکہ یہ منشا تھا کہ میری حیثیت محض ایک خلیفہ کی ہے اور میرا کام اپنے رسول اور مطاع کی تعلیم کو صحیح رنگ میں دنیا میں قائم کرنا ہے۔پس تم اس صداقت ازلی کو ہر چیز پر مقدم رکھو اور خواہ میں بھی اُس کے خلاف کہوں تم اصل تعلیم کو کبھی ترک نہ کرو۔قرآن کریم سے بعض مثالیں اب میں بتاتا ہوں کہ اس قسم کے الفاظ قرآن کریم میں بھی موجود ہیں۔حضرت شعیب فرماتے ہیں۔مَا يَكُونُ لَنَا أَنْ نَعُودَ فِيهَا إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّهُ رَبُّنَا - ۸۸ کفار نے حضرت شعیب علیہ السلام سے کہا کہ آؤ اور ہم میں مل جاؤ تو حضرت شعیب علیہ السلام نے یہ جواب دیا کہ ہمارے لئے یہ بالکل ناممکن ہے کہ تمہارے مذہب میں شامل ہوں ہاں اگر خدا چاہے تو ہو سکتا ہے۔اب کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ حضرت شعیب کو کا فر کر دینا اللہ تعالیٰ کیلئے ممکن تھا یا شعیب کا کا فر ہو جانا ممکن تھا۔یقیناً اُن کا کا فر ہونا ناممکن تھا کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے نبی تھے۔مگر انہوں نے یہ کہا اور اس لئے کہا تا اللہ تعالیٰ کا مقام اور اُس کی عظمت لوگوں پر ظاہر ہو کہ گو میرا کا فر ہونا ناممکن ہے مگر اس میں میرے نفس کی کوئی بڑائی نہیں