خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 202
خلافة على منهاج النبوة ۲۰۲ جلد دوم سکتے ہیں حضرت علی کے زمانہ کے فتنہ پر بھی روشنی پڑتی ہے اور اس میں یہ پیشگوئی نظر آتی ہے کہ جس طرح حضرت ہارون کے زمانہ میں فساد ہوا حضرت علیؓ کے زمانہ میں بھی فساد ہوگا اور لوگ حضرت علی پر الزام لگائیں گے لیکن وہ الزام اُسی طرح غلط ہو نگے جس طرح ہارون پر یہ اعتراض غلط ہے کہ انہوں نے شرک کیا۔بہر حال حضرت علی کا طریق حضرت ہارون کے مشابہ ہو گا کہ تفرقہ کے ڈر سے کسی قدر نرمی کریں گے ( جیسا کہ صفین کے موقع پر تحکیم کو تسلیم کر کے انہوں نے کیا ) صلى الله اس کے بعد میں خلافت کے بارہ میں رسول کریم علیہ کا ایک ارشاد حدیثوں میں سے صرف ایک حدیث بطور مثال خلافت کے بارہ میں پیش کر دیتا ہوں کیونکہ اس سے زیادہ کی گنجائش نہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مَا مِنْ نَّبِيِّ إِلَّا تَبِعَتُهُ خِلافَةٌ ٥٦ یعنی کوئی نبی نہیں کہ اس کے بعد خلافت نہ ہوئی ہو۔اس عام فیصلہ کے بعد خلافت کا انکار در حقیقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نبوت کا انکار ہے کیونکہ یہ ایک قاعدہ کلیہ ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا۔خلفاء کے حقوق کے بارہ اب میں ایک اعتراض جو بہت مشہور اور جو خلفاء کے حقوق کے بارہ میں ہے اس کا جواب دیتا ہوں۔میں ایک بہت بڑا اعتراض ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ جیسا کہ آیت استخلاف سے ثابت ፡ ہے اور جیسا کہ آیت وَاُولِى الأمْرِ مِنْكُم سے ثابت ہے اور جیسا کہ آیت و شاوِرُهُمْ فِي الأَمْرِ فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّل على الله سے ثابت ہے خلفاء پر گو اہم امور میں مشورہ لینے کی پابندی ہے لیکن اُس پر عمل کرنے کی پابندی نہیں۔اس پر بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ یہ اسلامی تعلیم کے خلاف ہے۔سب سے پہلے خلیفہ حضرت ابو بکر ہے۔خو دفرماتے ہیں کہ اِن زِغْتُ فَقَومُونِی ، اگر میں کبھی دکھاؤں تو مجھے سیدھا کر دینا۔معلوم خود ہوا کہ وہ پبلک کو خلیفہ کو روکنے کا اختیار دیتے ہیں۔غیر مبائعین ہمیشہ یہ اعتراض کیا کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جب حضرت ابو بکر نے یہ کہہ دیا تھا کہ اگر میں ٹیڑھا ہو جاؤں تو مجھے سیدھا