خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 201
خلافة على منهاج النبوة ۲۰۱ جلد دوم آپ الوصیت“ میں تحریر فرماتے ہیں :۔ย ' تب خدا تعالیٰ نے حضرت ابوبکر صدیق کو کھڑا کر کے دوبارہ اپنی قدرت کا نمونہ دکھایا اور اسلام کو نابود ہوتے ہوتے تھام لیا اور اس وعدہ کو پورا کیا جو فر ما یا تھا ليُمَكّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِى ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَةِ لَنَّهُمْ مِّنْ بَعْدِ خوفهم آشنا۔۔۔۔۔ایسا ہی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وقت میں ہوا۔۱۳ اس حوالہ سے ظاہر ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس آیت میں حضرت موسیٰ کے نبی جانشین سے حضرت ابو بکر کی مشابہت کو تسلیم کیا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث بھی اس پر روشنی ڈالتی ہے۔آپ فرماتے ہیں۔لَوْ كَانَ نَبِيٍّ بَعْدِى لَكَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابُ ٥٣ یعنی اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر بن الخطاب ہوتا۔اس کے یہی معنی ہیں کہ عمر میرے بعد امام ہونے والے ہیں۔اگر میرے معاً بعد نبوت کا اجراء اللہ تعالیٰ نے کرنا ہوتا تو عمرہ بھی نبی ہوتے مگر اب وہ امام تو ہونگے مگر نبی نہ ہو نگے۔ایک دوسری حدیث بھی اس پر روشنی ڈالتی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ جنگ پر گئے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اپنے پیچھے قائم مقام بنا گئے۔پیچھے صرف منافق ہی منافق رہ گئے تھے۔اس وجہ سے وہ گھبرا کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے کہ مجھے بھی لے چلیں۔آپ نے تسلی دی اور فرمایا۔اَلا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى إِلَّا أَنَّهُ لَيْسَ نَبِيٌّ بَعْدِی ۵۵ یعنی (۱) اے علی ! تمہیں مجھ سے ہارون اور موسیٰ کی نسبت حاصل ہے۔ایک دن ہارون کی طرح تم بھی میرے خلیفہ ہو گے (۲) لیکن با وجود اس نسبت کے تم نبی نہ ہو گے۔اس میں ایک ہی وقت میں نبی سے مشابہت بھی دے دی اور نبوت سے خالی بھی بتا دیا۔پس جس طرح علی ہارون کے مشابہ ہو سکتے ہیں چاروں خلفاء چار دوسرے نبیوں کے بھی مشابہ ہو سکتے ہیں۔اس حدیث سے علاوہ اس کے کہ یہ ثبوت ملتا ہے کہ خلفاء نبیوں کے مشابہ قرار دیئے جا