خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 200 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 200

خلافة على منهاج النبوة ۲۰۰ جلد دوم آپ ابوالانبیاء ہو جائیں اور آپ کی اولا د روحانی میں بھی نبوت مخصوص ہو جائے۔سوا اللہ تعالیٰ نے اس دعا کو سنا اور جس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام کے معاً بعد چار رسول ہوئے تھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے معا بعد چار رخلیفے ہوئے جنہوں نے آپ کے دین کی تمکین کی اور جس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسل میں دُور زمانہ میں پھر نبی پیدا ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعید زمانہ بعد بھی انبیاء کی بعثت کی خبر دی گئی مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس امر میں بھی فضیلت دی گئی ہے۔یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام نے تو دو خلفاء کی تربیت بلا واسطہ کی تھی اور دو کی پالواسطہ۔مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاروں اماموں کی تربیت خود فرمائی اگر یہ مشابہت نہ ہوتی تو پھر كَمَا صَلَّيْتَ اور كَمَا بَارَكْتَ کے معنی ہی کیا ہوتے۔پھر تو یہ تسلیم کرنا پڑتا کہ شاید حضرت ابراہیم علیہ السلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑا درجہ رکھتے ہیں۔پس ابراہیمی وعدہ اور در و دمل کر صاف بتاتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی ایسا ہی ہونے والا تھا اور آپ کے بعد بھی آپ کے دین کی تمکین کیلئے خلفا ء آنے والے تھے۔اگر کہو کہ وہ خلفاء تو نبی تھے یہ تو نبی نہ تھے تو اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے اولاد کے امام ہونے کے در حقیقت دو وعدے تھے ایک تو قریب عہد میں اور ایک بعید عہد میں جس میں موسیٰ اور عیسی اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسیح موعود شامل تھے۔اللہ تعالیٰ کی حکمت نے تقاضا کیا کہ قریب عہد کے امام خلیفہ امام ہوں اور بعید کا خلیفہ نبی خلیفہ ہو۔چنانچہ خلفائے راشدین عُلَمَاءُ أُمَّتِى كَانْبِيَاءِ بَنِي إِسْرَائِيلَ کے ماتحت انبیاء سے شدید مشابہت رکھتے تھے مگر نبی نہ تھے اور آخری خلیفہ ایک پہلو سے اُمتی اور ایک پہلو سے نبی ہوا تا کہ مشابہت میں نقص نہ رہ جائے۔اب دیکھو کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت میں ان خلفاء نے ان چار انبیاء سے زیادہ تمکین دین کی ہے اور یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ کا ایک زبر دست ثبوت ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ایک تحریر بھی اس اُلجھن کو دور کر دیتی ہے۔