خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 183 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 183

خلافة على منهاج النبوة ۱۸۳ جلد دوم نہ ہوتے بلکہ یا تو ورثہ کے طور پر ملوکیت کو حاصل کرتے یا نبی انہیں اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت بطور با دشاہ مقرر کر دیتے۔مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم چونکہ زیادہ اعلیٰ درجہ کی تھی اس لئے آپ کے بعد خلفائے انبیاء کی ضرورت نہ رہی اس کے ساتھ ہی ملوکیت کی ادنی صورت کو اُڑا دیا گیا اور اُس کی ایک کامل صورت آپ کو دی گئی اور یہ ظاہر ہے کہ اسلامی خلافت کے ذریعہ سے جس طرح قوم کے ساتھ وعدہ پورا ہوتا ہے کہ اُس میں انتخاب کا عصر رکھا گیا ہے اور قومی حقوق کو محفوظ کیا گیا ہے وہ پہلے بادشاہوں کی صورت میں نہ تھا اور زیادہ کامل صورت کا پیدا ہو جانا وعدہ کے خلاف نہیں ہوتا۔جیسے اگر کسی کے ساتھ پانچ روپے کا وعدہ کیا جائے اور اُسے دس روپے دے دیئے جائیں تو یہ نہیں کہا جائے گا کہ وعدہ کی خلاف ورزی ہوئی۔پس اس کے صرف یہ معنی ہیں کہ جس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پہلوں سے افضل تھے آپ کی خلافت بھی پہلے انبیاء کی خلافت سے افضل تھی۔عُلَمَاءُ أُمَّتِي كَانْبِيَاءِ بَنِي إِسْرَائِيلَ دوسرا جواب یہ ہے کہ رسول کریم ہ فرماتے ہیں عُلَمَاءُ أُمَّتِي مراد روحانی خلفاء ہی ہیں كَانْبِيَاءِ بَنِي إِسْرَائِيلَ ۲۵ یعنی میری اُمت کے علماء انبیاء بنی اسرائیل کی طرح ہیں۔اس کے یہ معنی نہیں کہ اُمت محمدیہ کا جو بھی عالم ہے وہ انبیائے بنی اسرائیل کی طرح ہے کیونکہ علماء کہلانے والے ایسے ایسے لوگ بھی ہیں جن کی دینی اور اخلاقی حالت کو دیکھ کر رونا آتا ہے۔میری عمر کوئی دس گیارہ برس کی ہوگی کہ نا نا جان مرحوم کے ساتھ بعض چیزیں خریدنے کیلئے میں امرتسر گیا۔رام باغ میں میں نے دیکھا کہ ایک مولوی صاحب ہاتھ میں عصا اور تسبیح لئے اور ایک لمبا سا جبہ پہنے جا رہے ہیں اور اُن کے پیچھے پیچھے ایک غریب شخص اُن کی منتیں کرتا جاتا ہے اور کہتا جاتا ہے کہ مولوی صاحب مجھے خدا کیلئے روپے دے دیں، مولوی صاحب مجھے خدا کیلئے روپے دے دیں۔مولوی صاحب تھوڑی دیر چلنے کے بعد اس کی طرف مڑ کر دیکھتے اور کہتے جا خبیث دُور ہو۔آخر وہ بیچارہ تھک کر الگ ہو گیا۔میں نے اس شخص سے پوچھا کہ کیا بات تھی ؟ وہ کہنے لگا میں نے اپنی شادی کیلئے بڑی مشکلوں سے سو دو سو روپیہ جمع کیا تھا اور اس شخص کو مولوی اور