خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 184
خلافة على منهاج النبوة ۱۸۴ جلد دوم دیندار سمجھ کر اس کے پاس امانتا رکھ دیا تھا مگر اب میں روپیہ مانگتا ہوں تو یہ دیتا نہیں اور کہتا ہے کہ میں تجھے جانتا ہی نہیں کہ تو کون ہے اور تو نے کب میرے پاس روپیہ رکھا تھا۔اب بتاؤ ایسے علماء كَأَنْبِيَاءِ بَنِي إِسْرَائِيلَ ہو سکتے ہیں؟ اور کیا یہ کہا جاسکتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث ان جنگ اسلام علماء کے متعلق ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ ان علماء سے مراد دراصل خلفاء ہیں جو علماءِ رُوحانی ہوتے ہیں اور اس ارشاد نبوی سے اِس طرح اشارہ کیا گیا ہے کہ پہلے نبیوں کے بعد جو کام بعض دوسرے انبیاء سے لیا گیا تھا وہی کام میری اُمت میں اللہ تعالیٰ بعض علماء ربانی یعنی خلفائے راشدین سے لے گا۔چنانچہ موسیٰ کے بعد جو کام یوشع سے لیا گیا وہ اللہ تعالیٰ ابوبکر سے لے گا اور جو کام داؤد سے لیا گیا وہ اللہ تعالیٰ عمر سے لے گا اور جو کام بعض اور انبیاء مثلاً سلیمان وغیرہ سے لیا گیا وہ اللہ تعالیٰ عثمان اور علی سے لے گا۔غرض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں اس امر کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے وہ مقام بخشا ہے کہ میری اُمت کے خلفاء وہی کام کریں گے جو انبیاء سابقین نے کیا۔پس اس جگہ علماء سے مرا د رشوتیں کھانے والے علماء نہیں بلکہ ابو بکر عالم ، عمرؓ عالم ، عثمان عالم اور علی عالم مراد ہیں۔چنانچہ جب ادنی ضرورت تھی اللہ تعالیٰ نے اِن لوگوں کو پیدا کر دیا اور پھر زیادہ روشن صورت میں جب زمانہ کو ایک نبی کی ضرورت تھی اللہ تعالیٰ نے اس وعدہ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ سے پورا کر دیا۔گوفرق یہ ہے کہ پہلے انبیاء براہ راست مقام نبوت حاصل کرتے تھے مگر آپ کو نبوت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی کی وجہ سے ملی۔خلافت احمد یہ تیسرا اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ اس آیت میں کما اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْرِهِمْ آیا ہے۔چلو ہم مان لیتے ہیں کہ پہلے خلفاء اس آیت کے ماتحت تھے کیونکہ اُن کے پاس نظام ملکی تھا لیکن اس آیت سے وہ خلافت جو احمد یہ جماعت میں ہے کیونکر ثابت ہوگئی کیونکہ ان کے پاس تو کوئی نظام ملکی نہیں ؟