خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 182
خلافة على منهاج النبوة ۱۸۲ جلد دوم زیادہ پورا کیا ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے قائم مقام نبی تھے، حضرت ابراہیم علیہ السلام کے قائم مقام نبی تھے ، اسی طرح اور انبیاء جب وفات پا جاتے تو ان کے کام کو جاری رکھنے کیلئے انبیا ء ہی ان کے جانشین مقرر کئے جاتے مگر کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ پہلے انبیاء کے ذریعہ جو تمکین دین ہوئی وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلفاء کے ذریعہ نہیں ہوئی۔اگر بصیرت اور شعور کے ساتھ حالات کا جائزہ لیا جائے تو اقرار کرنا پڑے گا کہ تمکین دین کے سلسلہ میں یوشع اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب وہ کام نہیں کر سکے جو ابو بکر اور عمر اور عثمان اور علیؓ نے کیا۔نادان انسان کہے گا کہ تم نے نبیوں کی ہتک کی مگر اس میں ہتک کی کوئی بات نہیں۔جب نبوت کا سوال آئے گا تو ہم کہیں گے کہ ابو بکر نبی نہیں ، عمر نبی نہیں ، عثمان نبی نہیں علی نبی نہیں مگر جب تمکین دین کا سوال آئے گا تو ہم کہیں گے کہ اس حصہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تابع خلفاء یقیناً پہلے انبیاء سے بڑھ کر ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کے انبیاء چونکہ کامل شریعت لے کر نہ آئے تھے اس لئے اُن کے بعد یا نبی مبعوث ہوئے یا ملوک پیدا ہوئے۔چنانچہ جب اصلاح خلق کیلئے الہام کی ضرورت ہوتی تو نبی کھڑا کر دیا جاتا مگر اُسے نبوت کا مقام براه راست حاصل ہوتا اور جب نظام میں خلل واقع ہوتا تو کسی کو بادشاہ بنا دیا جاتا اور چونکہ لوگوں کو ابھی اس قدر ذہنی ارتقاء حاصل نہیں ہوا تھا کہ وہ اپنی اصلاح کے لئے آپ جد و جہد کر سکتے اس لئے نہ صرف انبیاء کو اللہ تعالیٰ براہِ راست مقام نبوت عطا فرما تا بلکہ ملوک بھی خدا کی طرف سے ہی مقرر کئے جاتے تھے۔جیسے قرآن کریم میں آتا ہے کہ إن الله قد بحث لكُم طالوت ملا ۲۴ طالوت کو تمہارے لئے خدا نے بادشاہ بنا کر بھیجا ہے۔گویا ابھی لوگ اس قابل نہیں ہوئے تھے کہ خود اپنے بادشاہ کا بھی انتخاب کر سکیں اور نہ شریعت اتنی کامل تھی کہ اُس کے فیضان کی وجہ سے کسی کو مقام نبوت حاصل ہوسکتا مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ ایک کامل تعلیم لے کر آئے تھے اس لئے دونوں قسم کے خلفاء میں فرق ہو گیا۔پہلے انبیاء کے خلیفے تو نبی ہی ہوتے تھے گو انہیں نبوت مستقل اور براہ راست حاصل ہوتی تھی اور اگر انتظامی امور چلانے کیلئے ملوک مقرر ہوتے تو وہ انتخابی