خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 150 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 150

خلافة على منهاج النبوة ۱۵۰ جلد دوم ارشادات کو حاصل ہے وہ ان دونوں کو حاصل نہیں۔گو ان سے اُتر کر انہیں بھی حاصل ہے اور یہ ثبوت ہے دليُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِى ارتضى لهُمْ کا کہ خدا نے ان کے دین کو قائم کیا اور اُن کی عزت کو لوگوں کے قلوب میں جا گزیں کیا۔چنانچہ آج کسی مسلمان سے پوچھ لو کہ اُس کے دل میں خلفاء میں سے سب سے زیادہ کس کی عزت ہے تو وہ پہلے حضرت ابو بکر کا نام لے گا پھر حضرت عمرؓ کا نام لے گا پھر حضرت عثمان اور پھر حضرت علیؓ کا نام لے گا حالانکہ کئی صدیاں ایسی گزری ہیں جن میں حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ کا نام لینے والا کوئی نہیں تھا اور اتنے لمبے وقفہ میں بڑے بڑے لوگوں کے نام دنیا سے مٹ جایا کرتے ہیں لیکن خدا نے اُن کے نام کو قائم رکھا اور اُن کے فتووں اور ارشادات کو وہ مقام دیا جو حضرت عثمان اور حضرت علیؓ کے فتووں اور ارشادات کو بھی حاصل نہیں۔پھر بنو امیہ کے زمانہ میں حضرت علی کو بدنام کرنے کی بڑی کوششیں کی گئیں اور بنو عباس کے زمانہ میں حضرت عثمان پر بڑا لعن طعن کیا گیا مگر باوجود اس کے کہ یہ کوششیں حکومتوں کی طرف سے صادر ہوئیں اور انہوں نے اپنے اپنے زمانوں میں اُن کو بدنام کرنے اور اُن کے ناموں کو مٹانے کی بڑی کوشش کی پھر بھی یہ دونوں خلفاء دُھلے دُھلائے نکل آئے اور خدا نے تمام عالم اسلامی میں ان کی عزت و توقیر کو قائم کر دیا۔خوف کو امن سے بدلنے کی پیشگوئی (۵) پانچویں علامت اللہ تعالی نے یہ بتاتی ہے کہ وليبة لتهُمْ مِّنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ آمَنَّا که وہ اُن کے خوف کے بعد اُن کے خوف کی حالت کو امن سے بدل دیتا ہے۔بعض لوگ اس کے یہ معنی کرتے ہیں کہ وہ ہر تخویف سے محفوظ رہتے ہیں اور یہ خیال کرتے ہیں کہ حضرت عمرؓ، حضرت عثمان اور حضرت علی کو چونکہ خلافت کے بعد خوف پیش آیا اور دشمنوں نے انہیں شہید کر دیا اس لئے حضرت ابو بکر کے سوا اور کسی کو خلیفہ راشد تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔شیخ عبدالرحمن صاحب مصری نے بھی اس بات پر بڑا زور دیا ہے اور لکھا ہے کہ اصل خلیفہ صرف حضرت ابو بکر تھے۔حضرت عمرؓ، حضرت عثمان اور حضرت علی کی خلافت آیت استخلاف کے ماتحت نہیں آتی۔