خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 149
خلافة على منهاج النبوة ۱۴۹ جلد دوم تمکین دین کا نشان چوتھی علامت خلفاء کی اللہ تعالیٰ نے یہ بتائی ہے کہ اُن کے دینی احکام اور خیالات کو اللہ تعالیٰ دنیا میں پھیلائے گا۔چنانچہ فرماتا ہے ويمكنتْ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِى ارْتَضَى لَهُمْ کہ اللہ تعالیٰ اُن کے دین کو تمکین دے گا اور با وجود مخالف حالات کے اُسے دنیا میں قائم کر دے گا۔یہ ایک زبر دست ثبوت خلافتِ حقہ کی تائید میں ہے اور جب اس پر غور کیا جاتا ہے تو خلفائے راشدین کی صداقت پر خدا تعالیٰ کا یہ ایک بہت بڑا نشان نظر آتا ہے۔یہ ایک عجیب بات ہے کہ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما ایسے خاندانوں میں سے تھے جو عرب میں کوئی جتھا نہیں رکھتے تھے۔لیکن حضرت عثمان اور حضرت علی رضی اللہ عنہما ایسے خاندانوں میں سے تھے جو عرب میں جتے رکھتے تھے۔چنانچہ بنو امیہ حضرت عثمان کے حق میں تھے اور بنو عباس حضرت علی کے حق میں اور ان دونوں کو عرب میں بڑی قوت حاصل تھی۔جب خلافت میں تنزل واقع ہوا اور مسلمانوں کی اکثریت میں سے ایمان اور عملِ صالح جاتا رہا تو حضرت عثمان اور حضرت علیؓ کی شہادت کے بعد بنوامیہ نے مسلمانوں پر تسلط جما لیا اور یہ وہ لوگ تھے جو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے تعلق رکھتے تھے۔چنانچہ ان کی حکومت کے دوران میں حضرت علی کی تو مذمت کی جاتی رہی مگر حضرت عثمان کی خوبیاں بیان ہوتی رہیں۔حضرت ابو بکر اور حضرت عمر کے مداح اور ان کی خوبیوں کا ذکر کرنے والے اس دور میں بہت ہی کم تھے۔اس کے بعد حالات میں پھر تغیر پیدا ہوا اور بنو امیہ کی جگہ بنو عباس نے قبضہ کر لیا اور یہ وہ لوگ تھے جو اہلِ بیت سے تعلق رکھتے تھے چنانچہ ان کا تمام زور حضرت علیؓ کی تعریف اور آپ کی خوبیاں بیان کرنے پر صرف ہونے لگ گیا اور کہا جانے لگا کہ عثمان بہت بُرا تھا۔غرض بنو امیہ تو یہ کہتے رہے کہ علیؓ بہت بُرا تھا اور بنو عباس یہ کہتے رہے کہ عثمان بہت بُرا تھا اور اس طرح کئی سو سال تک مسلمانوں کا ایک حصہ حضرت عثمان کے اوصاف شمار کرتا رہا اور ایک حصہ حضرت علیؓ کے اوصاف شمار کرتا رہا مگر باوجود اس کے کہ خلفائے اربعہ کے بعد اسلامی حکومتوں کے یہ دو دور آئے اور دونوں ایسے تھے کہ ان میں حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ سے تعلق رکھنے والے لوگ کوئی نہ تھے پھر بھی دنیا میں جو عزت اور جوڑ تبہ حضرت ابو بکر اور حضرت عمر کے فتووں اور