خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 137 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 137

خلافة على منهاج النبوة ۱۳۷ جلد دوم بننے کی بجائے اُن کو اپنے اوپر حکم بناؤ اور ان سے اختلاف کر کے اللہ تعالیٰ سے اختلاف کرنے والے مت بنو۔آیت استخلاف پر بحث اس عام حکم کے بعد اب میں ان احکام کو لیتا ہوں جو خالص فرماتا دینی اسلامی نظام کے متعلق ہیں۔اللہ تعالیٰ سورہ نور میں ہے قُلْ أَطِيعُوا اللَّهَ وَاطِيْعُوا الرَّسُوْلَ فَإِن تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا عَلَيْهِ ما حُمِلَ وَعَلَيْكُمْ مَّا حُمِّلْتُمْ وَإِن تُطِيعُوهُ تَهْتَدُوا وَمَا عَلَى الرَّسُولِ إِلَّا الْبَلغُ الْمُبِينُ وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّلِحْتِ ليَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْراهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارتضى لهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ آمَنَّا ، يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بي شَيْئًا، وَمَن كَفَرَ بَعْدَ ذلِكَ فَأُولئِكَ هُمُ الْفَسِقُونَ - وَأَقِيمُوا الصَّلوة وَأتُوا الزَّعُوةَ وَاطِيعُوا الرَّسُولَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُون ۴۵ ان آیات میں پہلے اللہ اور رسول کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے اور پھر مسلمانوں سے وعدہ کیا گیا ہے کہ اگر وہ اطاعت میں کامل ہوئے تو اللہ تعالیٰ انہیں مطاع بنا دے گا اور پہلی قوموں کی طرح ان کو بھی زمین میں خلیفہ بنائے گا اور اُس وقت ان کا فرض ہوگا کہ وہ نمازیں قائم کریں اور زکوتیں دیں اور اس طرح اللہ کے رسول کی اطاعت کریں۔یعنی خلفاء کے ساتھ دین کی تمکین کر کے وہ اطاعتِ رسول کرنے والے ہی ہوں گے گویا مَنْ يُطِعِ الأَمِيرَ فَقَدْ أَطَا عَنِى وَمَنْ يَعْصِ الْاَمِيْرَ فَقَدْ عَصَانِی کا نکتہ بیان کیا کہ اس وقت رسول کی اطاعت اسی رنگ میں ہوگی کہ اشاعت و تمکین دین میں خلفاء کی اطاعت کی جائے۔اقامت صلوۃ صحیح معنوں میں پس ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے پہلے خلافت کا وعدہ کیا ہے اور پھر فرمایا ہے کہ ان کا خلافت کے بغیر نہیں ہو سکتی فرض ہو گا کہ وہ نماز میں قائم کریں اور زکوۃ دیں۔اس طرح اللہ تعالیٰ نے اس امر کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ اقامتِ صلوۃ اپنے