خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 138 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 138

خلافة على منهاج النبوة ۱۳۸ جلد دوم صحیح معنوں میں خلافت کے بغیر نہیں ہو سکتی اور زکوۃ کی ادائیگی بھی خلافت کے بغیر نہیں ہو سکتی۔چنانچہ دیکھ لو، رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں زکوۃ کی وصولی کا باقاعدہ انتظام تھا۔پھر جب آپ کی وفات ہو گئی اور حضرت ابو بکر خلیفہ ہوئے تو اہلِ عرب کے کثیر حصہ نے زکوۃ دینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ یہ حکم صرف رسول کریم ﷺ کیلئے مخصوص تھا بعد کے خلفاء کیلئے نہیں مگر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے ان کے اس مطالبہ کو تسلیم نہ کیا اور فرمایا کہ اگر یہ اونٹ کے گھٹنے کو باندھنے والی ایک رسی بھی زکوۃ میں دینے سے انکار کریں گے تو میں ان سے جنگ جاری رکھوں گا اور اس وقت تک بس نہیں کروں گا جب تک ان سے اسی رنگ میں زکوۃ وصول نہ کر لوں جس رنگ میں وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ادا کیا کرتے تھے۔چنانچہ آپ اس مہم میں کامیاب ہوئے اور زکوۃ کا نظام پھر جاری ہو گیا جو بعد کے خلفاء کے زمانہ میں بھی جاری رہا۔مگر جب سے خلافت جاتی رہی مسلمانوں میں زکوۃ کی وصولی کا بھی کوئی نظام نہ رہا اور یہی اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں فرمایا تھا کہ اگر خلافت کا نظام نہ ہو تو مسلمان زکوۃ کے حکم پر عمل ہی نہیں کر سکتے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ زکوۃ جیسا کہ اسلامی تعلیم کا منشا ہے امراء سے لی جاتی اور ایک نظام کے ماتحت غرباء کی ضروریات پر خرچ کی جاتی ہے۔اب ایسا وہیں ہو سکتا ہے جہاں ایک با قاعدہ نظام ہو۔اکیلا آدمی اگر چند غرباء میں زکوۃ کا روپیہ تقسیم بھی کر دے تو اس کے وہ شاندار نتائج کہاں نکل سکتے جو اس صورت میں نکل سکتے ہیں جب زکوۃ کے تمام روپیہ کو جماعتی رنگ میں غرباء کی بہبودی اور ان کی ترقی کے کاموں پر خرچ کیا جائے۔پس زکوۃ کا نظام بالطبع خلافت کا مقتضی ہے۔اسی طرح اقامتِ صلوۃ بھی بغیر اس کے نہیں ہو سکتی اور اس کی وجہ یہ ہے کہ صلوۃ کا بہترین حصہ جمعہ ہے جس میں خطبہ پڑھا جاتا ہے اور قومی ضرورتوں کو لوگوں کے سامنے رکھا جاتا ہے۔اب اگر خلافت کا نظام نہ ہو تو بھلا چھوٹے چھوٹے دیہات کی جماعتوں کو کیا علم ہوسکتا ہے کہ چین اور جاپان میں کیا ہو رہا ہے اور اسلام ان سے کن قربانیوں کا مطالبہ کر رہا ہے۔اگر ایک مرکز ہو گا اور ایک خلیفہ ہو گا جو تمام مسلمانوں کے نزدیک واجب الاطاعت ہو گا تو اسے تمام اکناف عالم سے رپورٹیں پہنچتی رہیں گی کہ یہاں یہ ہو رہا ہے اور وہاں وہ ہو رہا ہے اور اس