خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 136 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 136

خلافة على منهاج النبوة ۱۳۶ جلد دوم گویا خلفائے راشدین ایک خلفائے راشدین اُمت کیلئے ایک میزان ہیں میزان ہیں جن سے دوسرے لوگ یہ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ان کا قدم صحیح راستہ پر ہے یا اس سے منحرف ہو چکا ہے۔جیسے دو سیر کا بٹہ ایک طرف ہو اور مولیاں گاجریں دوسری طرف تو ہر شخص ان مولیوں ، گاجروں کو ہی دوسیر کے بٹہ کے مطابق وزن کرے گا یہ نہیں ہو گا کہ اگر پانچ سات مولیاں کم ہوں تو بے کو اُٹھا کر پھینک دے اور کہہ دے کہ وہ صحیح نہیں۔اسی طرح رسول کریم میں نے یہ نہیں فرمایا کہ تم خلفائے راشدین کے اعمال کا جائزہ لو اور دیکھو کہ وہ تمہاری عقل کے اندر آتے ہیں یا نہیں اور وہ تمہاری سمجھ کے مطابق خدا اور رسول کے احکام کے مطابق ہیں یا نہیں بلکہ یہ فرمایا ہے کہ اگر تمہیں اپنے متعلق کبھی یہ شبہ پیدا ہو جائے کہ تمہارے اعمال خدا اور اس کے رسول کی رضا کے مطابق ہیں یا نہیں تو تم دیکھو کہ ان اعمال کے بارہ میں خلفائے راشدین نے کیا کہا ہے۔اگر وہ خلفائے راشدین کے بتائے ہوئے طریقوں کے مطابق ہوں گے تو درست ہوں گے اور اگر وہ ان کے بتائے ہوئے طریقوں کے مطابق نہ ہوں گے تو غلط ہوں گے۔پس خدا اور رسول کا وہ حکم جس کی طرف بات کو لوٹانے کا ارشاد ہے یہی احکام ہیں جن کو میں نے بیان کیا ہے۔یعنی تم یہ دیکھو کہ جن حکام سے تمہیں اختلاف ہے وہ کس قسم سے تعلق رکھتے ہیں۔آیا وہ دُنیوی حکام میں سے ہیں یا خلفائے راشدین میں سے۔اگر وہ دنیوی حکام ہیں تو حتی الوسع ان کی اطاعت کرو۔ہاں اگر وہ کسی نص صریح کے خلاف عمل کرنے کا حکم دیں تو تمہارا حق ہے کہ ان کی غلطی پر انہیں متنبہ کرو، انہیں راہ راست پر لانے کی کوشش کرو اور انہیں بتاؤ کہ تم غلط راستے پر جا رہے ہو اور اگر نہ مانیں اور کفر بواح کا ارتکاب کریں مثلاً نماز پڑھنے سے روک دیں یا روزے نہ رکھنے دیں تو تمہیں اس بات کا اختیار ہے کہ ان کے اس قسم کے احکام ماننے سے انکار کر دو اور کہو کہ ہم نمازیں پڑھیں گے، ہم روزے رکھیں گے ، تم جو جی میں آئے کر لو لیکن اگر وہ اولی الامر خلفائے راشدین ہوں تو پھر سمجھ لو کہ وہ غلطی نہیں کر سکتے۔وہ جو کچھ کریں گے اللہ تعالیٰ کے منشاء کے مطابق ہوگا اور اللہ تعالیٰ انہیں اُسی راہ پر چلائے گا جو اس کے نزدیک درست ہوگا۔پس ان پر حکم