خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 135 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 135

خلافة على منهاج النبوة ۱۳۵ جلد دوم میں آنے والے خلفاء الراشدین کی سنت کو اختیار کرنا۔تَمَسَّكُوا بِهَا تم اس سنت کو مضبوطی سے پکڑ لینا وَعَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ اور جس طرح کسی چیز کو دانتوں سے پکڑ لیا جاتا ہے اسی طرح اس سنت سے چمٹے رہنا اور کبھی اس راستے کو نہ چھوڑنا جو میرا ہے یا میرے خلفائے را شدین کا ہوگا۔وَإِيَّاكُمْ وَمُحْدَثَاتِ الأمُورِ اور تم نئی نئی باتوں سے بچتے رہنا فَإِنَّ كُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ وَكُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ کیونکہ ہر وہ نئی بات جو میری اور خلفاء راشدین کی سنت کے خلاف ہوگی وہ بدعت ہوگی اور بدعت ضلالت ہوا کرتی ہے۔ان دونوں قسم کے حوالوں سے ثابت ہوتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے أولي الأمر دو قسم کے تسلیم کئے ہیں۔ایک دُنیوی اور ایک دینی اور اسلامی۔دُنیوی امراء کے متعلق اطاعت کا حکم ہے مگر ساتھ ہی کفر بواح کا جواز بھی رکھا ہے اور اس صورت میں بشرطیکہ برہان ہو قیاس نہ ہو ان کفریہ اُمور میں ان کی اطاعت سے باہر جانے کی نہ صرف اجازت دی ہے بلکہ حکم دیا ہے۔گو بعض اسلامی علماء نے جیسے حضرت محی الدین ابن عربی ہیں اس بارہ میں بھی اتنی احتیاط کی ہے کہ وہ کہتے ہیں ایسی صورت میں بھی صرف علیحدگی کا اعلان کرنا جائز ہے بغاوت کرنا پھر بھی جائز نہیں۔مگر ایک دینی اور اسلامی اولی الامر بتائے ہیں جن کے بارہ میں ہمیں حکم نہیں بنایا بلکہ انہیں امت پر حکم بنایا ہے اور فرمایا ہے جو کچھ وہ کریں وہ تم پر حجت ہے اور ان کے طریق کی اتباع اسی طرح ضروری ہے جس طرح میرے حکم کی۔پس حاکم دو قسم کے ہیں۔ایک وہ جو دنیوی ہیں اور جن کے متعلق اس بات کا امکان ہے کہ وہ گفر کا ارتکاب کر سکتے ہیں۔ان کے متعلق تو یہ حکم دیا کہ تم ان کی اطاعت کرتے چلے جاؤ ، ہاں جب ان سے کفر بواح صادر ہو تو الگ ہو جاؤ۔مگر دوسرے حکام وہ ہیں جو غلطی کر ہی نہیں سکتے ان کے متعلق یہ ہدایت کی گئی ہے کہ ہمیشہ ان کی سنت اور طریق کو اختیار کرنا چاہئے اور کبھی ان کے راستہ سے علیحدہ نہیں ہونا چاہئے بلکہ اگر کبھی تمہیں یہ شبہ پڑ جائے کہ تمہارے عقائد درست ہیں یا نہیں تو تم اپنے عقائد کو خلفائے راشدین کے عقائد کے ساتھ ملاؤ۔اگر مل جائیں تو سمجھ لو کہ تمہارا قدم صحیح راستہ پر ہے اور اگر نہ ملے تو سمجھ لو کہ تم غلط راستے پر جار ہے ہو۔