خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 126 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 126

خلافة على منهاج النبوة ۱۲۶ جلد دوم خالص دینی نظام کی بھی کوئی صورت نہیں اور انہوں نے یہ سمجھا کہ یہ دونوں نظام کسی صورت میں بھی الگ نہیں ہو سکتے اور جب ایک نظام ان کیلئے ناممکن ہو گیا تو انہوں نے دوسرے نظام کو بھی ترک کر دیا حالانکہ مسلمانوں کا فرض تھا کہ جب ان میں سے خلافت جاتی رہی تھی تو وہ کہتے کہ آؤ جو قومی مسائل ہیں ان کیلئے ہم ایک مرکز بنالیں اور اس کے ماتحت ساری دنیا میں اسلام کو پھیلائیں۔چنانچہ وہ اس مرکز کے ماتحت دنیا بھر میں تبلیغی مشن قائم کرتے ، لوگوں کے اخلاق کی درستی کی کوشش کرتے ، لوگوں کو قرآن پڑھاتے ، غیر مسلموں کو اسلام میں داخل کرتے اور جو مشترکہ قومی مسائل ہیں ان میں مشترکہ جد و جہد اور کوشش سے کام لیتے مگر انہوں نے سمجھا کہ اب ان کیلئے کسی خالص دینی نظام کے قیام کی کوئی صورت ہی باقی نہیں رہ گئی۔نتیجہ یہ ہوا کہ وہ روز بروز تنزل میں گرتے چلے گئے۔اگر وہ دینی اور دنیوی امور پر مشتمل نظام کے قیام میں ناکام رہنے کے بعد خالص دینی نظام قائم کر لیتے تو وہ بہت بڑی تباہی سے بچ جاتے اور اس کی وجہ سے آج شاید تمام دنیا میں اسلام اتنا غالب ہوتا کہ عیسائیوں کا نام ونشان تک نہ ہوتا مگر چونکہ انہیں یہ غلطی لگ گئی کہ اگر وہ ساری دنیا میں ایک ایسا نظام قائم نہیں کر سکے جو دینی اور دنیوی دونوں امور پر مشتمل ہو تو اب ان کیلئے کسی خالص دینی نظام کے قیام کی کوئی صورت ہی نہیں اس لئے جب ایک نظام ان کے ہاتھ سے جاتا رہا تو دوسرے نظام کو بھی انہوں نے ترک کر دیا۔دوسری غلطی دوسری غلطی ان سے یہ ہوئی کہ انہوں نے یہ سمجھا انتخاب صرف اس نظام کیلئے ہے جو سب مسلمانوں کے دینی اور دنیوی امور پر حاوی ہو حالانکہ ان آیات میں خدا تعالیٰ نے واضح طور پر بتلا دیا تھا کہ انتخاب خالص دُنیوی نظام میں بھی اسی طرح ضروری ہے جس طرح دینی و دنیوی مشتر کہ نظام میں۔اگر اور نہیں تو وہ اتنا ہی کر لیتے کہ جب بھی کسی کو بادشاہ بناتے تو انتخاب کے بعد بناتے۔تب بھی وہ بہت سی تباہی سے بچ سکتے تھے مگر انہوں نے انتخاب کے طریق کو بھی ترک کر دیا حالانکہ اگر وہ اس نکتہ کو سمجھتے تو وہ ملوکیت کا غلبہ جو اسلام میں ہوا اور جس نے اسلامی حکومت کو تباہ کر دیا کبھی نہ ہوتا اور مسلمانوں کی کوششیں اسلامی طریق حکومت کے قیام کیلئے جاری رہتیں۔اور مسلمان ڈیما کریسی