خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 127 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 127

خلافة على منهاج النبوة ۱۲۷ جلد دوم (DEMOCRACY) کی صحیح ترقی کے پہلے اور سب سے بہتر علمبر دار ہوتے۔اختلاف کی صورت میں ایک خالص یہ جو میں نے کہا ہے کہ ایسے حالات میں کہ اختلاف پیدا ہو چکا ہے ایک مذہبی نظام قائم کرنے کا ثبوت خالص مذہبی نظام قائم کرنے کا اس آیت سے ثبوت ملتا ہے۔وہ اس طرح ہے کہ اس آیت میں سب مسلمان مخاطب ہیں اور انہیں ہر وقت أولي الأمر منكم کی اطاعت کا حکم ہے اس میں کسی زمانہ کی تخصیص نہیں کہ فلاں زمانہ میں اُولی الامر کی اطاعت کرو اور فلاں زمانہ میں نہ کرو بلکہ ہر حالت اور ہر زمانہ میں ان کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے۔اگر کوئی کہے کہ اولی الامر کی اطاعت کا حکم محض وقتی ہے تو ساتھ ہی اسے یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ اللہ اور رسول کی اطاعت کا حکم بھی محض وقتی ہے کیونکہ خدا نے اس سے پہلے اطیعُوا اللَّهَ وَاطِيْعُوا الرَّسُول کا حکم دیا ہے۔لیکن اگر خدا اور رسول کے احکام کی اطاعت ہر وقت اور ہر زمانہ میں ضروری ہے تو معلوم ہوا کہ اولی الامر کی اطاعت کا حکم بھی ہر حالت اور ہر زمانہ کیلئے ہے اور دراصل اس آیت کے ذریعہ مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ نے اس امر کی طرف توجہ دلائی تھی کہ کسی نہ کسی نظام کی پابندی ان کیلئے ہر وقت لازمی ہوگی۔پس جس طرح دوسرے احکام میں اگر ایک حصہ پر عمل نہ ہو سکے تو دوسرے حصے معاف نہیں ہو سکتے ، جو جہاد نہ کر سکے اس کیلئے نماز معاف نہیں ہو سکتی ، جو وضو نہ کر سکے اس کیلئے رکوع اور سجدہ معاف نہیں ہوسکتا ، جو کھڑے ہو کر نماز نہ پڑھ سکے اس کیلئے بیٹھ کر یا لیٹ کر یا اشاروں سے نماز پڑھنا معاف نہیں ہوسکتا ، اسی طرح اگر سارے عالم اسلامی کا ایک سیاسی نظام نہ ہو سکے تو مسلمان اولی الامر کی اطاعت کے ان حصوں سے آزاد نہیں ہو سکتے جن پر وہ عمل کر سکتے تھے۔جیسے اگر کوئی حج کیلئے جائے اور صفا اور مروہ کے درمیان سعی نہ کر سکے تو سعی اس کیلئے معاف نہیں ہو جائے گی بلکہ اس کیلئے ضروری ہو گا کہ کسی دوسرے کی پیٹھ پر سوار ہو کر اس فرض کو ادا کرے۔پس مسلمانوں سے یہ ایک شدید غلطی ہوئی کہ انہوں نے سمجھ لیا کہ چونکہ ایک نظام ان کیلئے ناممکن ہو گیا ہے اس لئے دوسرا نظام انہیں معاف ہو گیا ہے۔حالانکہ خالص مذہبی نظام مختلف حکومتوں میں بٹ