خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 125
خلافة على منهاج النبوة ۱۲۵ جلد دوم خالص دنیوی نظام کو تسلیم نہیں کرتا۔مگر وہ حالات کے اختلاف کو بھی نظر انداز نہیں کرتا کیونکہ ہوسکتا ہے کہ کسی وقت وہ اعلیٰ نظام جو اسلام کے مدنظر ہو نافذ نہ کیا جا سکے اس صورت میں ڈ نیوی نظاموں کی بھی ضرورت ہو سکتی ہے۔مثلاً کسی وقت اگر مسلمانوں کا معتد بہ حصہ گفار حکومتوں کے ماتحت ہو جائے ، ان کی خریت سلب ہو جائے ، ان کی آزادی جاتی رہے اور ان کی اجتماعی قوت قائم نہ رہے تو جن ملکوں میں اسلام کا زور ہو وہ مذہبی اور دُنیوی نظام اکٹھا قائم نہیں کر سکتے۔کیونکہ مسلمانوں کی اکثریت اس کی اتباع نہیں کر سکتی۔پس اس مجبوری کی وجہ سے ان ملکوں میں خالص دُنیوی نظام کی اجازت ہوگی جو انہی اصول پر قائم ہوگا جو اسلام نے تجویز کئے ہیں اور جن کا قبل ازیں ذکر کیا جا چکا ہے۔خالص دنیوی نظام کا مفہوم خالص دنیوی نظام سے یہ مراد نہیں کہ وہ نظام اسلامی احکام کو جو حکومت سے تعلق رکھتے ہیں نافذ نہیں کرے گا بلکہ مراد یہ ہے کہ مذہبی طور پر اس کے احکام سب عالم اسلامی پر واجب نہ ہوں گے کیونکہ مسلمانوں کی اکثریت سیاسی حالات کی وجہ سے ان کی پابندی نہ کر سکے گی اور نہ اس نظام کے قیام میں مسلمانوں کی اکثریت کا ہاتھ ہو گا۔پس ایسے وقت میں جائز ہوگا کہ ایک خالص مذہبی نظام الگ قائم کیا جائے بلکہ جائز ہی نہیں ضروری ہوگا کہ ایک خالص مذہبی نظام علیحدہ قائم کر لیا جائے جس کا تعلق اس اسلامی نظام سے ہو جس کا تعلق کسی حکومت سے نہ ہو بلکہ اسلام کی روحانی تنظیم سے ہوتا کہ غیر حکومتیں دخل اندازی نہ کریں اور چونکہ وہ صرف روحانی نظام ہوگا اور حکومت کے کاروبار میں وہ دخل نہ دے گا اس لئے ایسا نظام غیر حکومتوں میں بسنے والے مسلمانوں کو اکٹھا کر سکے گا اور اسلام پرا گندگی سے بچ جائے گا۔اگر مسلمان اس آیت کے مفہوم پر عمل کرتے تو یقیناً جو تنزل مسلمانوں کو آخری زمانہ میں دیکھنا نصیب ہوا اس کا دیکھنا انہیں نصیب نہ ہوتا۔مسلمانوں کی ایک افسوسناک غلطی غلط مسلمانوں سے تنزل کے وقت میں غلطی ہوئی کہ انہوں نے سمجھا کہ اگر وہ ساری دنیا میں ایک ایسا نظام قائم نہیں کر سکے جو دینی اور دنیوی امور پر مشتمل ہو تو اُن کیلئے