خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 112
خلافة على منهاج النبوة ١١٢ جلد دوم جائے۔اور میرا جواب وہی تھا جو میں ان کو پہلے دے چکا تھا بلکہ میں نے اُن کو یہ بھی کہا کہ اگر چار پانچ ماہ کے بعد بھی اختلاف ہی رہا تو کیا ہوگا۔اگر آپ کثرتِ رائے پر فیصلہ کریں گے تو کیوں نہ ابھی جماعت کی کثرتِ رائے سے یہ فیصلہ کر لیا جائے کہ کون خلیفہ ہو۔جب سلسلہ گفتگو کسی طرح ختم ہوتا نظر نہ آیا تو میں نے مولوی محمد علی صاحب سے کہا کہ باہر جولوگ موجود ہیں اُن سے مشورہ لے لیا جائے۔اس پر مولوی صاحب کے منہ سے بے اختیار یہ فقرہ نکل گیا کہ میاں صاحب ! آپ کو پتہ ہے کہ وہ لوگ کس کو خلیفہ بنائیں گے؟ میں نے کہا لوگوں کا سوال نہیں میں خود یہ فیصلہ کر چکا ہوں کہ آپ لوگوں میں سے کسی کے ہاتھ پر بیعت کر لوں اور میرے ساتھی بھی اس غرض کیلئے تیار ہیں مگر انہوں نے پھر بھی یہی جواب دیا کہ آپ جانتے ہیں وہ کس کو منتخب کریں گے۔اس پر میں مایوس ہو کر اُٹھ بیٹھا کیونکہ با ہر جماعت کے دوست اس قدر جوش میں بھرے ہوئے تھے کہ وہ ہمارے دروازے توڑ رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ ہم زیادہ صبر نہیں کر سکتے۔جماعت اس وقت تک بغیر کسی رئیس کے ہے اور آپ کی طرف سے کوئی امر طے ہونے میں ہی نہیں آتا۔آخر میں نے مولوی صاحب سے کہا چونکہ ہمارے نزدیک خلیفہ ہونا ضروری ہے اس لئے آپ کی جو مرضی ہو وہ کریں۔ہم اپنے طور پر لوگوں سے مشورہ کر کے کسی کے ہاتھ پر بیعت کر لیتے ہیں۔چنانچہ یہ کہتے ہوئے میں وہاں سے اُٹھ کھڑا ہوا اور مجلس برخواست ہو گئی۔خلافت ثانیہ کا قیام عصر کی نماز کے بعد جب نواب محمد علی خان صاحب نے حضرت خلیفہ اول کی وصیت سنانے کے بعد لوگوں درخواست کی کہ وہ کسی کو آپ کا جانشین تجویز کریں تو سب نے بالا تفاق میرا نام لیا اور اس طرح خلافت ثانیہ کا قیام عمل میں آیا۔میں نے سنا ہے کہ اُس وقت مولوی محمد علی صاحب بھی کچھ کہنے کیلئے کھڑے ہوئے تھے مگر کسی نے اُن کے کوٹ کو جھٹک کر کہا کہ آپ بیٹھ جائیں۔بہر حال جو کچھ ہوا اللہ تعالیٰ کی مشیت کے ماتحت ہوا اور وہ جس کو خلیفہ بنانا چاہتا تھا اُس کو اُس نے خلیفہ بنا دیا۔