خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 113
خلافة على منهاج النبوة جلد دوم حضرت خلیفہ اول کے بعض یہ لوگ حضرت خلیفہ اول کو اپنے متعلق ہمیشہ غلط فہمی میں مبتلاء کرنے کی کوشش کیا کرتے تھے ارشادات کی اصل حقیقت اسی لئے حضرت خلیفہ اول کے لیکچروں میں بعض جگہ اس قسم کے الفاظ نظر آ جاتے ہیں کہ لاہوری دوستوں پر بدظنی نہیں کرنی چاہئے۔یہ خیال کرنا کہ وہ خلافت کے مخالف ہیں جھوٹ ہے۔اس کی وجہ یہی تھی کہ یہ خود حضرت خلیفہ اوّل سے بار بار کہتے کہ ہمارے متعلق جو کچھ کہا جاتا ہے جھوٹ ہے ، ہم تو خلافت کے صدق دل سے مؤید ہیں۔مگر اب دیکھ لو ان کا جھوٹ کس طرح ظاہر ہو گیا اور جن باتوں کا وہ قسمیں کھا کھا کر اقرار کیا کرتے تھے اب کس طرح شدت سے اُن کا انکار کرتے رہتے ہیں۔غرض حضرت خلیفہ اول کی خلافت کو تسلیم کر لینے کے بعد ان لوگوں نے بھی خوارج کی طرح الْحُكْمُ لِلَّهِ وَالامُرُشُوری بَيْنَنَا ۳۲ کا راگ الاپنا شروع کر دیا مگر اللہ تعالیٰ نے انہیں نا کام رکھا اور جماعت میرے ہاتھ پر جمع ہوئی۔ان کے بعد بھی بعض لوگ بعض اغراض کے ماتحت بیعت سے علیحدہ ہوئے اور انہوں نے بھی ہمیشہ وہی شور مچایا جو خوارج مچایا کرتے تھے مگر خدا تعالیٰ نے آج تک اُن کو ناکام و نامراد رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ آئندہ بھی جماعت کو ان کے فتنوں سے محفوظ رکھے۔خلافت کے بارہ میں قرآنی احکام یہ تو تاریخ خلافت ہے۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن و احادیث میں اس بارہ میں کیا روشنی ملتی ہے اور کیا کوئی نظام رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اسلام نے تجویز کیا ہے یا نہیں اور اگر کیا ہے تو وہ کیا ہے۔اس بارہ میں جب ہم غور کرتے ہیں تو ہمیں پہلا اصولی حکم قرآن کریم میں یہ ملتا ہے کہ :۔الم تر الى الذين أوتُوا نَصِيبًا من الكتبِ يُؤْمِنُونَ بِالْجِبْتِ وَالطَّاغُوتِ وَيَقُولُونَ لِلَّذِينَ كَفَرُوا هَؤُلاء أَهْدَى مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا سَبِيلًا أُولَئِكَ الَّذِينَ منَ الْمُلْكِ فَإِذَا لَّا يُؤْتُونَ النَّاسَ نَقِيرًا أَمْ يَحْسُدُونَ النَّاسَ عَلَى