خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 111 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 111

خلافة على منهاج النبوة 111 جلد دوم انتخاب خلافت پر جماعت کے میں نے جب یہ ٹریکٹ پڑھا تو آنے والے فتنہ کا تصور کر کے خود بھی دعا میں لگ گیا اور وے فیصد دوستوں کا اتفاق دوسرے لوگ جو اس کمرہ میں تھے اُن کو بھی میں نے جگایا اور اس ٹریکٹ سے باخبر کرتے ہوئے انہیں دعاؤں کی تاکید کی۔چنانچہ ہم سب نے دعائیں کیں، روزے رکھے اور قادیان کے اکثر احمدیوں نے بھی دعاؤں اور روزہ میں حصہ لیا۔صبح کے وقت بعض دوستوں نے یہ محسوس کر کے کہ مولوی محمد علی صاحب نے نہ صرف ہم سے دھوکا کیا ہے بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت خلیفتہ المسیح الاوّل کی وصیتوں کی بھی تحقیر کی ہے۔ایک تحریر لکھ کر تمام آنے والے احباب میں اس غرض سے پھرائی تا معلوم ہو کہ جماعت کا رحجان کدھر ہے۔اس میں جماعت کے دوستوں سے دریافت کیا گیا تھا کہ آپ بتائیں حضرت خلیفہ اول کے بعد کیا ویسا ہی کوئی خلیفہ ہونا چاہئے یا نہیں جیسا کہ حضرت خلیفہ اول تھے اور یہ کہ انہوں نے حضرت خلیفہ اول کی بیعت آپ کو خلیفہ سمجھ کر کی تھی یا ایک پیر اور صوفی سمجھ کر۔اس ذریعہ سے جماعت کے دوستوں کے خیالات معلوم کرنے کا یہ فائدہ ہوا کہ ہمیں لوگوں کے دستخطوں سے یہ معلوم ہو گیا کہ جماعت کا نوے فیصدی سے بھی زیادہ حصہ اس امر پر متفق ہے کہ خلیفہ ہونا چاہئے اور اسی رنگ میں ہونا چاہئے جس رنگ میں حضرت خلیفہ اول تھے۔مولوی محمد علی صاحب سے دوبارہ گفتگو دس بجے کے قریب مجھے مولوی محمد علی صاحب کا پیغام آیا کہ کل والی بات کے متعلق میں پھر کچھ گفتگو کرنا چاہتا ہوں۔چنانچہ میں نے اُن کو بلوالیا اور باتیں شروع ہو گئیں۔میں نے اس امر پر زور دیا کہ خلافت کے متعلق آپ بحث نہ کریں کیونکہ آپ ایک خلیفہ کی بیعت کر کے اس اصول کو تسلیم کر چکے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ! جماعت میں خلفاء کا سلسلہ جاری رہے گا صرف اس امر پر بحث کریں کہ خلیفہ کون ہو۔بعد ہو۔وہ بار بار کہتے تھے کہ اس بارہ میں جلدی کی ضرورت نہیں جماعت کو چار پانچ ماہ غور کر لینے دیا