خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 110 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 110

خلافة على منهاج النبوة جلد دوم ہو کر کام کرنا چاہئے۔میں نے کہا گل تک امید ہے کافی لوگ جمع ہو جائیں گے اس لئے میرے نزدیک کل جب تمام لوگ جمع ہو جائیں تو مشورہ کر لیا جائے۔مولوی صاحب نے کہا کہ نہیں اتنی جلدی کی کیا ضرورت ہے چار پانچ ماہ جماعت غور کر لے پھر اس کے بعد جو فیصلہ ہو اُس پر عمل کر لیا جائے۔میں نے کہا کہ اس عرصہ میں اگر جماعت کے اندر کوئی فساد ہو گیا تو اس کا ذمہ دار کون ہوگا۔جماعت بغیر لیڈر اور راہنما کے ہوگی اور جب جماعت کا کوئی امام نہیں ہو گا تو کون اس کے جھگڑوں کو حل کرے گا اور جماعت کے لوگ کس کے پاس اپنی فریاد لے کر جائیں گے۔فساد کا کوئی وقت مقرر نہیں ممکن ہے آج شام کو ہی ہو جائے پس یہ سوال رہنے دیں کہ آج اس امر کا فیصلہ نہ ہو کہ کون خلیفہ بنے بلکہ آج سے پانچ ماہ کے بعد فیصلہ ہو۔ہاں اس امر پر ہمیں ضرور بحث کرنی چاہئے کہ کون خلیفہ ہوا اور میں نے مولوی محمد علی صاحب سے کہا کہ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ میں اور میرے ہم خیال اس بات پر تیار ہیں کہ آپ لوگوں میں سے کسی کے ہاتھ پر بیعت کر لیں۔مولوی صاحب نے کہا یہ بڑی مشکل بات ہے آپ سوچ لیں اور کل اس پر پھر گفتگو ہو جائے چنانچہ ہم دونوں الگ ہو گئے۔مولوی محمد علی صاحب کا ایک ٹریکٹ رات کو جب میں تجھد کیلئے اٹھا تو بھائی عبد الرحمن صاحب قادیانی نے مجھے ایک ٹریکٹ دیا اور کہا کہ یہ ٹریکٹ تمام راستہ میں بیرونجات سے آنے والے احمدیوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔میں نے اسے دیکھا تو وہ مولوی محمد علی صاحب کا لکھا ہوا تھا اور اس میں جماعت پر زور دیا گیا تھا کہ آئندہ خلافت کا سلسلہ نہیں چلنا چاہئے اور یہ کہ حضرت خلیفہ اول کی بیعت بھی انہوں نے بطور ایک پیر کے کی تھی نہ کہ بطور خلیفہ کے۔ساتھ ہی یہ بھی لکھا تھا کہ جماعت کا ایک امیر ہو سکتا ہے مگر وہ بھی ایسا ہونا چاہئے جو واجب الا طاعت نہ ہو، جو غیر احمد یوں کو کافر نہ کہتا ہو اور جس کی چالیس سال سے زیادہ عمر ہو۔مقصد یہ تھا کہ اگر خلیفہ بنایا جائے تو مولوی محمد علی صاحب کو کیونکہ اُن کی عمر اُس وقت چالیس سال سے زائد تھی اور وہ غیر احمد یوں کو کا فر بھی نہیں کہتے تھے۔