خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 84
خلافة على منهاج النبوة ۸۴ جلد دوم سے میری آنکھ اندھی ہوگئی ہے۔صرف تو ہی ایک ایسا وجود تھا جس کے متعلق مجھے موت کا خوف تھا۔اب تیری وفات کے بعد خواہ کوئی مرے مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں ہوسکتی۔نبی کی زندگی میں اس کی جانشینی کے پس جب نبی کی زندگی میں قوم کے دل کی اور دماغ کی یہ کیفیت ہوتی ہے تو سمجھا مسئلہ کی طرف توجہ ہی نہیں ہوسکتی جاسکتا ہے کہ خدا بھی اور نبی بھی ان کو اس ایذاء سے بچاتے ہیں اور اس نازک مضمون کو کہ نبی کی وفات کے بعد کیا ہو گا لطیف پیرایہ میں بیان کرتے ہیں اور قوم بھی اس مضمون کی طرف زیادہ توجہ نہیں دیتی اور نہ ان امور میں زیادہ دخل دیتی ہے کہ نبی کے بعد کیا ہو گا۔چنانچہ یہ کہیں سے ثابت نہیں کہ کسی نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا ہو کہ يَا رَسُولَ اللهِ ! آپ جب فوت ہو جائیں گے تو کیا ہوگا ؟ آیا آپ کے بعد خلافت کا سلسلہ جاری ہوگا یا کوئی پارلیمنٹ اور مجلس بنے گی جو مسلمانوں سے تعلق رکھنے والے امور کا فیصلہ کرے گی کیونکہ ایسے امور پر وہی بحث کر سکتا ہے جو سنگدل ہوا اور جو نبی کی محبت اور اس کی عظمت سے بالکل بریگا نہ ہو۔باقی کئی مسائل کے متعلق تو ہمیں احادیث میں نظر آتا ہے کہ صحابہ ان کے بارہ میں آپ سے دریافت کرتے رہتے تھے اور گرید گرید کر وہ آپ سے معلومات حاصل کرتے تھے مگر جانشینی کا مسئلہ ایسا تھا جو صحابہ آپ سے دریافت نہیں کر سکتے تھے اور نہ اس کو دریافت کرنے کا خیال تک ان کے دل میں آ سکتا تھا کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ آپ زندہ رہیں گے اور ہم وفات پا جائیں گے۔پس یہ مسئلہ ایک رنگ میں اور ایک حد تک پردہ اخفاء میں رہتا ہے اور اس کے کھلنے کا اصل وقت وہی ہوتا ہے جبکہ نبی فوت ہو جاتا ہے۔یہی حالات تھے جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے آپ کی وفات صحابہ کے لئے ایک زلزلہ عظیمہ تھی۔چنانچہ آپ کی وفات پر پہلی دفعہ انہیں یہ خیال پیدا ہوا کہ نبی بھی ہم سے جدا ہوسکتا ہے اور پہلی دفعہ یہ بات ان کے دماغ پر اپنی حقیقی اہمیت کے ساتھ نازل ہوئی کہ اس کے بعد انہیں کسی نظام کی ضرورت ہے جو نبی کی سنت اور خواہشات کے مطابق ہو اور اس کی جزئیات پر انہوں نے غور کرنا شروع کیا۔بیشک اس نظام کی تفصیلات قرآن کریم میں