خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 85 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 85

خلافة على منهاج النبوة ۸۵ جلد دوم موجود تھیں مگر چونکہ وہ پہلے چھپی ہوئی تھیں اور ان کو کبھی گرید انہیں گیا تھا اس لئے لوگ ان آیات کو پڑھتے اور ان کے کوئی اور معنے کر لیتے۔وہ خاص معنے نہیں کرتے تھے جن سے ظاہر ہوتا تھا کہ نبی کی وفات کے بعد اس کے متبعین کو کیا کرنا چاہئے۔ہر نبی کی دوزندگیاں ہوتی در حقیقت اس جذبہ محبت کی تہہ میں بھی ایک الہی حکمت کام کر رہی ہوتی ہے اور وہ یہ کہ نبی کی دو ہیں ایک شخصی اور ایک قومی زندگیاں ہوتی ہیں۔ایک شخصی اور ایک قومی اور اللہ تعالیٰ ان دونوں زندگیوں کو الہام سے شروع کرتا ہے۔نبی کی شخصی زندگی تو الہام سے اس طرح شروع ہوتی ہے کہ جب وہ تمیں یا چالیس سال کا ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے الہامات اس پر نازل ہونے شروع ہو جاتے ہیں اور اسے کہا جاتا ہے کہ تو مامور ہے اور تجھے لوگوں کی اصلاح اور ان کی ہدایت کیلئے کھڑا کیا جاتا ہے۔ان الہامات کے نتیجہ میں وہ اپنے اوپر خدا تعالیٰ کے غیر معمولی فضل نازل ہوتے دیکھتا ہے اور وہ اپنے اندر نئی قوت ، نئی زندگی اور نئی بزرگی محسوس کرتا ہے۔اور نبی کی قومی زندگی الہام سے اس طرح شروع ہوتی ہے کہ جب وہ وفات پا تا ہے تو کسی بنی بنائی سکیم کے ماتحت اس کے بعد نظام قائم نہیں ہوتا بلکہ یکدم ایک تغیر پیدا ہوتا ہے اور خدا تعالی کا مخفی الہام قوم کے دلوں کو اس نظام کی طرف متوجہ کر دیتا ہے۔قدرت اولی نبی کی شخصی زندگی ہوتی غرض جس طرح نہیں کی شخصی زندگی کو اللہ تعالیٰ الہام سے شروع کرتا ہے اسی ہے اور قدرت ثانیہ قومی زندگی طرح وہ اس کی قومی زندگی کو جواس کی وفات کے بعد شروع ہوتی ہے الہام سے شروع کرنا چاہتا ہے تا کہ دونوں میں مشابہت قائم رہے اسی وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کا نام قدرت ثانیہ رکھا ہے۔گویا قدرت اولی تو نبی کی شخصی زندگی ہے اور قدرت ثانیہ نبی کی قومی زندگی ہے۔پس چونکہ اللہ تعالیٰ اس قومی زندگی کو ایک الہام سے اور اپنی قدرت سے شروع کرنا چاہتا ہے اس لئے اس کی جزئیات کو نبی کے زمانہ میں قوم کی نظروں سے پوشیدہ رکھتا ہے۔پھر جب نبی فوت ہو جاتا ہے تو خدا تعالیٰ کا مخفی الہام قوم کے دلوں کو اس زندگی کی تفصیلات کی طرف متوجہ کرتا