خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 83 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 83

خلافة على منهاج النبوة ۸۳ جلد دوم صلى الله 7۔حال ہے؟ انہوں نے بتایا کہ آپ فوت ہو چکے ہیں۔حضرت ابو بکر نے یہ سنتے ہی کپڑا اٹھایا اور آپ کی پیشانی پر انہوں نے بوسہ دیتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ آپ پر دو موتیں جمع نہیں کرے گا۔یعنی یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک تو آپ وفات پا جائیں اور دوسری طرف قوم پر موت وارد ہو جائے اور وہ صحیح اعتقادات سے منحرف ہو جائے۔پھر آپ باہر تشریف لائے اور منبر پر کھڑے ہو کر آپ نے ایک وعظ کیا جس میں بتایا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو چکے ہیں۔پھر آپ نے یہ آیت پڑھی کہ وَمَا مُحَمَّدُ إِلَّا رَسُولُ : قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ ، آفائِن مَاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُم و اس کے بعد آپ نے بڑے زور سے کہا کہ اے لوگو! محمد رسول اللہ علیہ بیشک اللہ کے رسول تھے مگر اب وہ فوت ہو چکے ہیں۔اگر تم میں سے کوئی شخص محمد رسول اللہ علیہ کی عبادت کیا کرتا تھا تو اسے سمجھ لینا چاہئے کہ آپ وفات پاچکے ہیں لیکن اگر تم خدا کی عبادت کیا کرتے تھے تو تم سمجھ لو کہ تمہارا خدا زندہ ہے اور اُس پر کبھی موت وارد نہیں ہو سکتی۔حضرت عمرؓ جو اُس وقت تلوار کی ٹیک کے ساتھ کھڑے تھے اور اس انتظار میں تھے کہ ابھی یہ منبر سے اتریں تو میں تلوار سے اُن کی گردن اڑا دوں۔انہوں نے جس وقت یہ آیت سُنی معا ان کی آنکھوں کے سامنے سے ایک پردہ اُٹھ گیا۔ان کے گھٹنے کانپنے لگ گئے۔ان کے ہاتھ لرزنے لگ گئے اور ان کے جسم پر ایک کپکپی طاری ہو گئی اور وہ ضعف سے نڈھال ہو کر زمین پر گر گئے۔باقی صحابہ بھی کہتے ہیں کہ ہماری آنکھوں پر پہلے پردے پڑے ہوئے تھے مگر جب ہم نے حضرت ابو بکڑ سے یہ آیت سنی تو وہ تمام پردے اُٹھ گئے۔دنیا ان کی آنکھوں میں اندھیر ہو گئی اور مدینہ کی تمام گلیوں میں صحابہ روتے پھرتے تھے اور ہر ایک کی زبان پر یہ آیت تھی کہ وَمَا مُحَمَّدُ إِلَّا رَسُولُ : قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ۔آفَائِن مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ ٢٠ حضرت حسان کا یہ شعر بھی اسی کیفیت پر دلالت کرتا ہے کہ كُنتَ السَّوَادَ لِنَا ظِرِى فَعَمِيَ عَلَى النَّاظِرُ مَنْ شَاءَ بَعْدَكَ فَلْيَمُتْ فَعَلَيْكَ كُنتُ أَحَاذِرُ ال کہ اے خدا کے رسول ! تُو تو میری آنکھ کی پتلی تھا اب تیرے وفات پا جانے کی وجہ