خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 63 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 63

خلافة على منهاج النبوة ۶۳ جلد اول کو تیار نہیں۔ایک دوست کا خط آیا ہے کہ لوگ سلسلہ کی باتیں سننے کو تیار ہیں کیونکہ ایسی جماعتیں وہاں پائی جاتی ہیں جو مسیح کی آمد کی انہی دنوں میں منتظر ہیں۔ایسا ہی ریو یوکو پڑھ کر بعض خطوط آتے ہیں۔سویڈن اور انگلستان سے بھی آتے ہیں۔ایک شخص نے مسیح کے کشمیر آنے کا مضمون پڑھ کر لکھا ہے کہ اسے الگ چھپوایا جائے اور دو ہزار مجھے بھیجا جائے میں اسے شائع کروں گا یہ ایک جرمن یا انگریز کا خط ہے۔ایسی سعادت مند روحیں ہیں جو سنے کو موجود ہیں مگر ضرورت ہے سنانے والوں کی۔میں یورپ میں تبلیغ کے سوال پر آج تک خاموش رہا اس کی یہ وجہ نہ تھی کہ میں اس سوال کا فیصلہ نہیں کر سکتا تھا ، نہیں بلکہ میں نے احتیاط سے کام لیا کہ جو لوگ وہاں گئے ہیں وہ وہاں کے حالات کا بہترین علم رکھتے ہیں میں چونکہ وہاں نہیں گیا اس لئے مجھے خاموش رہنا چاہیے لیکن جو لوگ وہاں گئے ان میں سے بعض نے لکھا ہے کہ حضرت صاحب کا ذکر لوگ سنتے ہیں اور ہماری تبلیغ میں حضرت صاحب کا ذکر ہونا چاہیے۔اس کے علاوہ خود حضرت صاحب نے یورپ میں تبلیغ کے لئے یہی فرمایا کہ اس سلسلہ کو پیش کیا جاوے۔اور جو کشف آپ نے دیکھا تھا اس کے بھی یہی معنی کئے کہ میری تحریریں وہاں پہنچیں گی۔ان تمام امور پر غور کر کے میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ ممالک غیر اور یورپ میں بھی اس سلسلہ کی اشاعت ہو اور ہمارے مبلغ وہاں جا کر انہیں بتائیں کہ تمہارا مذہب مردہ ہے اس میں زندگی کی روح نہیں ہے زندہ مذہب صرف اسلام ہے جس کی زندگی کا ثبوت اس زمانہ میں بھی ملتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نازل ہوئے۔غرض وہاں بھی سلسلہ کا پیغام پہنچایا جاوے اور جہاں ہم سر دست واعظ نہیں بھیج سکتے وہاں ٹریکٹ اور چھوٹے چھوٹے رسالے چھپوا کر تقسیم کریں۔۔اشتہاری تبلیغ کا جوش چونکہ مھے تبلیغ کے لئے خاص دلچی ہی رہی ہے اس دلچسپی کے ساتھ عجیب عجیب ولولے اور جوش پیدا ہوتے رہے ہیں اور اس تبلیغی عشق نے عجیب عجیب ترکیبیں میرے دماغ میں پیدا کی ہیں۔ایک بار خیال آیا کہ جس طرح پر اشتہاری تاجر اخبارات میں اپنا اشتہار دیتے ہیں میں بھی چین کے اخبارات