خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 64
خلافة على منهاج النبوة ۶۴ جلد اول میں ایک اشتہار تبلیغ سلسلہ کا دوں اور اس کی اُجرت دے دوں تا کہ ایک خاص عرصہ تک وہ اشتہار چھپتا رہے۔مثلاً یہی اشتہار کہ مسیح موعود آ گیا “ بڑی موٹی قلم سے اس عنوان سے ایک اشتہار چھپتا رہے۔غرض میں اِس جوش اور عشق کا نقشہ الفاظ میں نہیں کھینچ سکتا جو اس مقصد کے لئے مجھے دیا گیا ہے یہ ایک نمونہ ہے اس جوش کے پورا کرنے کا۔ورنہ یہ ایک لطیفہ ہی ہے۔اس تجویز کے ساتھ ہی مجھے بے اختیار ہنسی آئی کہ یہ اشتہاری تبلیغ بھی عجیب ہو گی۔مگر یہ کوئی نئی بات نہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی تبلیغ سلسلہ کے لئے عجیب عجیب خیال آتے تھے اور وہ دن رات اسی فکر میں رہتے تھے کہ یہ پیغام دنیا کے ہر کونے میں پہنچ جاوے۔ایک مرتبہ آپ نے تجویز کی کہ ہماری جماعت کا لباس ہی الگ ہو تا کہ ہر شخص بجائے خود ایک تبلیغ ہو سکے اور دوستوں کو ایک دوسرے کی ناواقفی میں شناخت آسان ہو۔اس پر مختلف تجویزیں ہوتی رہیں۔میں خیال کرتا ہوں کہ شاید اسی بناء پر لکھنؤ کے ایک دوست نے اپنی ٹوپی پر احمدی لکھوا لیا۔غرض تبلیغ ہو اور کونہ کونہ میں ہو کوئی جگہ باقی نہ رہے۔یہ جوش ، یہ تجویزیں اور کوششیں ہماری نہیں یہ حضرت صاحب ہی کی ہیں اور سب کچھ انہیں کا ہے ہمارا تو کچھ بھی نہیں۔مبلغ کہاں سے آویں جب ہم چاہتے ہیں کہ دنیا کے ہر گوشہ اور ہر قوم اور ہر زبان میں ہماری تبلیغ ہو تو دوسرا سوال جو قدرتاً پیدا ہوتا ہے یہ ہوگا کہ تبلیغ کے لئے مبلغ کہاں سے آویں؟ یہ وہ سوال ہے جس نے ہمیشہ میرے دل کو دُکھ میں رکھا ہے۔خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی یہ تڑپ رکھتے تھے کہ اخلاص کے ساتھ تبلیغ کرنے والے ملیں۔حضرت خلیفہ المسیح کی بھی یہ آرزو ر ہی۔اسی خواہش نے اسی جگہ اسی مسجد میں مدرسہ احمدیہ کی بنیاد مجھ سے رکھوائی اور اسی مسجد میں بڑے زور سے اس کی مخالفت کی گئی۔لیکن میری کوئی ذاتی خواہش اور غرض نہ تھی محض اعلائے سلسلہ کی غرض سے میں نے یہ تحریک کی تھی باوجود یکہ بڑے بڑے آدمیوں نے مخالفت کی آخر اللہ تعالیٰ نے اس مدرسہ کو قائم کر ہی دیا۔اُس وقت سمجھنے والوں نے نہ سمجھا کہ اس مدرسہ کی کس قدرضرورت ہے اور مخالفت میں حصہ لیا۔میں دیکھتا تھا کہ علماء کے قائم مقام پیدا نہیں ہوتے۔