خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 62
خلافة على منهاج النبوة ۶۲ جلد اول کہنے سے نہیں ڈرتا کہ اس تبلیغ سے ہماری غرض سلسلہ احمدیہ کی صورت میں اسلام کی تبلیغ ہو۔میرا یہی مذہب ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس رہ کر اندر باہر ان سے بھی یہی سنا ہے کہ آپ فرماتے تھے کہ اسلام کی تبلیغ یہی میری تبلیغ ہے پس اس اسلام کی تبلیغ کر و جو مسیح موعود علیہ السلام لایا۔حضرت صاحب اپنی ہر ایک تحریر میں اپنا ذکر فرماتے تھے اور ہم مسیح موعود علیہ السلام کے ذکر کے بغیر زندہ اسلام پیش کر بھی کب سکتے ہیں۔پس جو لوگ مسیح موعود علیہ السلام کی تبلیغ کا طریق چھوڑتے ہیں یہ ان کی غلطی ہے ، کمزوری ہے ان پر محبت پوری ہو چکی ہے۔حضرت صاحب کی ایک تحریر ملی ہے جو مولوی محمد علی صاحب کو ہی مخاطب کر کے فرمائی تھی۔اور وہ یہ ہے۔اخبار بدر جلد ۶ نمبر ۸ مورخه ۱۲۱ / فروری ۱۹۰۷ء صفحه ۴ ۱۳ / فروری ۱۹۰۷ء مولوی محمد علی صاحب کو بلا کر حضرت اقدس نے فرمایا کہ ہم چاہتے ہیں کہ یورپ امریکہ کے لوگوں پر تبلیغ کا حق ادا کرنے کے واسطے ایک کتاب انگریزی زبان میں لکھی جائے اور یہ آپ کا کام ہے۔آجکل ان ملکوں میں جو اسلام نہیں پھیلتا اور اگر کوئی مسلمان ہوتا بھی ہے تو وہ بہت کمزوری کی حالت میں رہتا ہے۔اس کا سبب یہی ہے کہ وہ لوگ اسلام کی اصل حقیقت سے واقف نہیں ہیں اور نہ ان کے سامنے اصل حقیقت کو پیش کیا گیا ہے۔ان لوگوں کا حق ہے کہ ان کو حقیقی اسلام دکھلایا جائے جو خدا تعالیٰ نے ہم پر ظاہر کیا ہے۔وہ امتیازی باتیں جو خدا تعالیٰ نے اس سلسلہ میں رکھی ہیں وہ ان پر ظاہر کرنی چاہئیں اور خدا تعالیٰ کے مکالمات اور مخاطبات کا سلسلہ ان کے سامنے پیش کرنا چاہیے اور ان سب باتوں کو جمع کیا جائے جن کے ساتھ اسلام کی عزت اس زمانہ میں وابستہ ہے۔ان تمام دلائل کو ایک جگہ جمع کیا جائے جو اسلام کی صداقت کے واسطے خدا تعالیٰ نے ہم کو سمجھائے ہیں۔اس طرح ایک جامع کتاب تیار ہو جائے تو امید ہے کہ اس سے ان لوگوں کو بہت فائدہ حاصل ہو۔اب بتاؤ کہ جب مسیح موعود علیہ السلام نے خود یورپ میں تبلیغ اسلام کا طریق بتا دیا ہے تو پھر کسی نئے طریق اختیار کرنے کی کیا وجہ ہے۔افسوس ہے جن کو اس کام کے لائق سمجھ کر ہدایت کی گئی تھی وہی اور راہ اختیار کر رہے ہیں۔یہ غلط ہے کہ لوگ وہاں سلسلہ کی باتیں سننے