خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 56
خلافة على منهاج النبوة جلد اول نہیں بلکہ خلیفہ کا کام ہے۔اب تمہیں معلوم ہو گیا ہو گا کہ یہ سب باتیں اس کے نیچے ہیں اور یہ خیالی طور پر نہیں ، ڈھکوسلہ کے رنگ میں نہیں بلکہ لغت اور صحابہ کے اقوال اس کی تائید کرتے ہیں۔پس میں نے تمہیں وہ کام خلیفہ کے بتائے ہیں جو خدا تعالیٰ نے بیان کئے ہیں اور اس کی حقیقت لغت عرب اور صحابہ کے مسلمہ معنوں کی رو سے بتائی ہے میرا کام اتنا ہے۔خدا تعالیٰ نے مجموعی اور یکجائی طور پر مجھے اس سے آگاہ کر دیا اور محض اپنے فضل سے سورۃ بقرہ کی کلید مجھے بتا دی۔میں اس راز اور حقیقت کو آج سمجھا کہ تین سال پیشتر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت بجلی کی طرح میرے دل میں کیوں ڈالی ؟ قبل از وقت میں اس راز سے آگاہ نہیں ہوسکتا تھا مگر آج حقیقت کھلی کہ ارادہ الہی میں یہ میرے ہی فرائض اور کام تھے اور ایک وقت آنے والا تھا کہ مجھے ان کی تکمیل کے لئے کھڑا کیا جانا تھا۔پس جب یہ ظاہر ہو چکا کہ خلیفہ کے کیا کام ہیں یا دوسرے لفظوں میں یہ کہو کہ میرے کیا فرائض ہیں تو اب سوال ہوتا ہے کہ ان کو کیونکر کرنا ہے؟ اور اسی میں مجھے تم سے مشورہ کرنا ہے۔مقاصد خلافت کی تکمیل کی کیا صورت ہو ہے تو آپ کو معلوم ہو چکا کہ کی خلافت کا پہلا اور ضروری کام تبلیغ ہے اس لئے ہمیں سوچنا چاہیے کہ تبلیغ کی کیا صورتیں ہوں۔مگر میں ایک اور بات بھی تمہیں بتانا چاہتا ہوں اور یہ بات ابھی میرے دل میں ڈالی گئی ہے کہ خلافت کے یہ مقاصد از بعد حضرت خلیفہ آنے کی وصیت میں بھی بیان کئے گئے ہیں۔خلیفة امسیح کی وصیت اسی کی تشریح ہے میں اپنے جالین کیلئے فرمایا۔حضرت خلیفۃ المسیح نے اپنی وصیت متقی ہو، ہر دلعزیز ہو، قرآن و حدیث کا درس جاری رہے، عالم باعمل ہو۔اس میں يُعلّمُهُمُ الكتب والحكمة کی طرف اشارہ اس حکم میں ہے کہ قرآن وحدیث کا درس جاری رہے کیونکہ الکتاب کے معنی قرآن شریف ہیں اور الحكمة کے معنی بعض آئمہ نے حدیث کے کئے ہیں۔اس طرح ALONE الكتب و الحِكْمَة کے معنی ہوئے قرآن و