خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 57 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 57

خلافة على منهاج النبوة ۵۷ جلد اول حدیث سکھائے عام ترجمہ ہے يَتْلُوا عَلَيْهِ مایت کا۔کیونکہ تبلیغ کے لئے علم کی ضرورت ہے۔متقی اور باعمل ہونا اور ہر دلعزیز ہونا یہ یزکیھم کے لئے ضروری ہے کیونکہ جو متقی ہے وہی تزکیہ کر سکتا ہے اور جو خود عمل نہ کرے گا اس کی بات پر اور لوگ عمل نہیں کر سکتے۔اسی طرح جو قوم کا مز کی ہو گا وہ ہر دلعزیز بھی ضرور ہوگا۔پھر کہو کہ وصیت میں ایک اور بات بھی ہے کہ درگزر سے کام لے۔میں کہتا ہوں اس کا ذکر بھی اس آیت میں ہے۔إنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الحَ الله تعالى جو العزيز ہے اُس کو بھی معزز کرے گا اور غلبہ دے گا۔جس کا لازمی نتیجہ درگزر ہوگا کیونکہ یہ ایک طاقت کو چاہتا ہے طاقت ملے تو درگزر کرے۔پس اس دعا میں اللہ تعالیٰ کے ان اسماء کا ذکر کرنے کے یہی معنی ہیں۔پھر یہ بتایا کہ درگزر نَعُوذُ بِاللهِ لغو نہیں بلکہ ایم کے خیال کے نیچے ہو گا۔پس یا درکھو کہ حضرت خلیفة امسیح ( خدا تعالیٰ کے بڑے بڑے فضل اُن پر ہوں ) کی وصیت بھی اسی آیت کی تشریح ہے۔اب جب کہ یہ ظاہر ہے کہ قرآن مجید نے ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اور خود حضرت خلیفہ اسیح نے خلیفہ کے کام پہلے سے بتا دیئے تو اب جدید شرائط کا کسی کو کیا حق ہے۔گورنمنٹ کی شرائط کے بعد کسی اور کو کوئی حق نہیں ہوتا کہ اپنی خود ساختہ باتیں پیش کرے۔خلیفہ تو خداوند مقرر کرتا ہے پھر تمہارا کیا حق ہے کہ تم شرائط پیش کرو۔خدا سے ڈرو اور ایسی باتوں سے تو بہ کرو یہ ادب سے دور ہیں۔خدا تعالیٰ نے خود خلیفہ کے کام مقرر کر دیئے ہیں اب کوئی نہیں جو ان میں تبدیلی کر سکے یا ان کے خلاف کچھ اور کہہ سکے۔پھر کہتا ہوں کہ حضرت خلیفۃ اسیح ( خدا کی ہزاروں ہزار رحمتیں اُن پر ہوں ) نے بھی وہی باتیں پیش کیں جو اس آیت میں خدا نے بیان کی تھیں گویا ان کی وصیت اس آیت کا ترجمہ ہے۔اب میں چاہتا ہوں کہ اور تشریح کروں۔پہلا فرض خلیفہ کا تبلیغ ہے جہاں تک میں نے غور کیا ہے میں نہیں جانتا کیوں بچپن ہی سے میری طبیعت میں تبلیغ کا شوق رہا ہے اور تبلیغ سے ایسا انس رہا ہے کہ میں سمجھ ہی نہیں سکتا۔میں چھوٹی سی عمر میں بھی ایسی دعائیں کرتا تھا اور مجھے ایسی حرص تھی کہ اسلام کا جو کام تبلیغ